اشاعتیں

اکتوبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وضو میں کتنے فرض ہیں اور کتنے واجبات

 سوال: وضو میں کتنے فرض ہیں اور کتنے واجبات ہیں ؟ جواب: وضو میں چار فرض ہیں اور وہ یہ ہیں ،وضو میں چار فرض ہیں : 1۔ منہ (چہرہ) ایک بار دھونا۔(پیشانی کے بالوں سے لیکر ٹھڈی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو، سے دوسرے کان کی لو تک) 2۔دونوں ہاتھوں کوایک بار کہنیوں سمیت ( کہنیوں تک )دھونا۔ 3۔ چوتھائی حصہ سر کا مسح کرنا۔ 4۔ دونوں پاؤں کو (ٹخنوں سمیت) ایک بار دھونا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اپنے منہ کو اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھولو! وضو میں کوئی واجب نہیں ہے۔( عمدۃ الفقہ ،جلد :1 صفحہ 114) فقط واللہ اعلم

خراج عقیدت بخدمت حضرت مولانا مفتی عبد المغنی صاحب نور اللہ مرقدہ ، از قلم مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی

بروفات حضرت مولانا مفتی محمد عبد المغنی صاحب نوراللہ مرقدہ ناظم و بانی مدرسہ سبیل الفلاح بنڈلہ گوڑہ وصدرسٹی جمعیتِ علماءحیدرآبا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🖋️🖋️🖋️🖋️    ازقلم:محمد انوارالحق نادم قاسمی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلتے جلتے بجھ گئی آخر وہ شمعِ انجمن غمزدہ ہیں جن کی رحلت سے ہر اک اہلِ دکن مفتی عبدالمغنی جمعیّت کے تھے روشن چراغ ان سے کتنے فیض پاکر بن گئے روشن دماغ روز و شب پیتے پلاتے تھے ہدایت کا اَیاغ ذوق والے پارہے تھے دین و دنیا کا سُراغ  خدمتِ قوم و وطن میں لمحہ لمحہ تھے مگن  غمزدہ ہیں جن کی رحلت سے ہر اک اہلِ دکن بحرِ حکمت کے شِناور علم وفن کے رازداں قوم و ملت کےلئےرہتے تھے وہ آشفتہ جاں ہر گھڑی رکھتے تھے جاری کچھ نہ کچھ سرگرمیاں بس اسی دھن میں تھے وہ گاہے یہاں، گاہے وہاں دینِ حق پر کردیا قربان اپنا جان و تن غمزدہ ہیں جنکی رحلت سے ہر اک اہلِ دکن عصرِ حاضر کے مسائل سے تھے ہر دم باخبر  تھے اکابر کی نگاہوں میں بھی منظورِ نظر حق تعالی نے خطابت کا دیا تھا وہ ہنر جنکے خطبہ سے جھلک جاتی ھے امیدِ سَحر عند لیبِ خوش نوا بن کر رہے...

واجبات نماز

واجبات نماز (١٤) چودہ ہیں (۱) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ پڑھنا۔  (۲) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں،سورہ ملانا۔  (۳) سورہٴ فاتحہ کو سورہ پر مقدم کرنا۔  (۴) قرأة اور رکوع کے درمیان ترتیب رکھنا۔  (۵) تعدیل ارکان کرنا۔  (۶) قعدہ اولیٰ کرنا۔  (۷) دونوں قعدے میں تشہد پڑھنا۔  (۸) لفظ سلام کے ساتھ سلام پھیرنا۔  (۹) نماز وتر میں دعاء قنوت پڑھنا۔  (۱۰) تکبیرات عیدین کہنا (۶/ زائد) ۔  (۱۱) جہری نماز میں قرأة جہری کرنا۔  (۱۲) سرّی نماز میں آہستہ قرأة کرنا۔  (۱۳) مقتدی کا امام کے پیچھے خاموش رہنا۔  (۱۴) مقتدی کے لئے امام کی متابعت کرنا۔  بعض لوگوں نے دو چار واجبات اور لکھے ہیں مگر وہ مختلف فیہ ہیں۔ (درمختار مع الشامی: ۱/۱۴۳) 

کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز پر ملنے والے ریوارڈز پوائنٹس کا شرعی حکم

کریڈٹ کارڈ و ڈیبٹ کارڈ، پر ملنے والے ریوارڈذ پوائنٹس پر شرعی حکم؟ سوال:میرا نام محمد ذیشان ہے اور دہلی سے تعلق رکھتا ہوں، ایک بین لاقوامی کمپنی میں ملازم ہوں، حضرات میں سوال ہے کہ کسی بھی منافع یا بڑھی ہوئی رقم کو سود ماننے کے کیا اصول ہے ، سود کی آج کل کے ماحول کے حساب سے کیا کیا شکل ہو سکتی ہیں؟ آج کل ڈیبٹ کارڈ کریڈٹ کارڈ پر کمپنی یا بینک، کارڈ، استعمال کرنے پر کچھ روارڈ پوائنٹس دیتی ہے ، مثلاً ۰۰۱ روپئے خرچ کرنے پر ۲ پوائنٹ ملتے ہیں، ان پوائنٹس کی ولیو ہوتی ہے جس کے عوض میں ہم کسی تھرڈ پارٹی سے خریداری کر سکتے ہیں، کیا یہ پوائنٹس استعمال کرنے کی اجازت ہے شریعت میں؟ کیا یہ سود کی شکل میں داخل ہے یا نہیں؟ جواب نمبر: 155517 بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa:76-226/sn=4/1439 ”ربا“ درحقیقت عقدِ معاوضہ کے ہراس زیادتی کو کہتے ہیں جو متعاقدین میں سے کسی کو حاصل ہو بایں طور کہ اس زیادتی کی پشت پر کوئی بدل نہ ہو۔ الربا: ہو في اللغة الزیادة وفي الشرع: ہو فضل خالٍ عن عوضٍ بمعیار شرعيّ مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (درمختار مع الشامي: ۷/ ۳۹۸وبعدہ، ط: زکریا) (۲) آج کل معاشرے میں سود کی مختلف شکلیں...

کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ خریداری کرنے پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم

 سوال کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کرنے پر جو ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، وہ حلال ہے یا سود کے زمرے میں آتا ہے؟ جیسا کہ آج کل میزان بینک ،فوڈ پانڈا پر ڈسکاؤنٹ دے رہا ہے۔ جواب واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ (Credit Card) بنوانا، اس کا استعمال اوراس کے ذریعہ خرید و فروخت شرعًا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کی بنیاد درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا، شریعت میں جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح سودی لین دین کا معاہدہ کرنا بھی شرعًا حرام ہے، اس بنیاد پر بالفرض اگر کریڈٹ کارڈ لینے والا شخص لی گئی رقم مقررہ مدت میں واپس بھی کردے تو بھی معاہدہ سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے اور اگر مقررہ مدت کے بعد سود کے ساتھ رقم واپس کرتا ہے تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے، لہذا ادائیگی کی صورت کوئی بھی ہو اس سے قط...

غزل

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرے اطراف جو کلکاریاں ہیں  یہ سب بے وقت کی شہنائیاں ہیں  ابھی بھی شہر سے بہتر ہے گاؤں ابھی بھی گاؤں میں پگڈنڈیاں ہیں  رہِ حق میں اتر جاتی ہے گردن بہت اس راہ میں دشواریاں ہیں نہ لے جاؤ مجھے بزمِ طرب میں مرے کاندھوں پہ ذمہ داریاں ہیں لیے پھرتا ہے کاسہ شاہزادہ  یہ سب حالات کی انگڑائیاں ہیں کوئی عہدِ وفا کیسے نبھاے  ہر اک کی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ہیں رہائی کا کوئی امکاں نہیں ہے کہ ہم پر عشق کی پابندیاں ہیں کٹہرے میں مجھے لایا گیا ہے  پسِ زندان کی تیاریاں ہیں افق پر دل کے میرے چھائی ہر سو کسی کی یاد کی پرچھائیاں ہیں ہمیں بے خوف جو رکھتی ہیں سب سے ہماری روح کی بیداریاں ہیں  میاں یہ کوچہء جاناں ہے سن لو یہاں بدنامیاں،،،رسوائیاں ہیں نسیم خان

تہنیت نامہ

مفتی محمّد صبغت اللہ قاسمی کے فرزند کے نام تہنیت کےپھول ازقلم: محمد انوار الحق داؤد نادمؔ قاسمی مدھوراپوری حیدرآباد صبغت کے گھرانے میں، نعمان کی پیدائش  مخفی تھی جو دل میں وہ، پوری ہوئ اب خواہش یہ وارثِ صبغت ہو اور وارثِ رضواں ہو  انوارِ الہی کی، ہو ان پہ سدا بارش ہو اس کی حیات اچھی, اسلام کے ساۓ میں  بافیض رہے ہردم*، *نعمان کی ہر کاوش   دادا کی دعاؤں سے نانا کی اداؤں سے  میخانۂ علمی بھی*، *خوب اس پہ کرے نازش   اللہ کی الفت سے، مخلوق کی خدمت سے نافع رہے اس کا بھی ہر علم وہنر دانش أحمد ہو، کہ حمد اللہ، فضل اللہ، سمیع اللہ  پوری ہوئ ہر دل کی، خاموش سی فرمائش   دادی کی دعائیں ہیں، نانی کی تمنا ہے  اخلاص ووفا یارب! دے قوتِ فہمائش نادم کی دعاء یہ ہے، نعماں کے لیے ہردم  دارین میں یا اللہ! دے اس کو بھی آسائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسبِ فرمائش: عزیزم مولانا مفتی محمد صبغت اللہ قاسمی 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ، ولولہ انگیز کلام

 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کی مناسبت سے ولولہ انگیز کلام  ہم نشین جان عالم ، جانشین یار غار  حق کو پھیلاتے رہے ، دنیا میں جو لیل ونہار  نخوت کسری کو شان قیصری کو خم کیا  ان کے دم سے عالم اسلام میں آئی بہار  دیکھ کر جن کو بدل لیتا تھا شیطاں، راستہ  ذہن ودل تھا جن کا ، امن وعدل سے آراستہ  جن سے ہے مرعوب اب تک ، اہل باطل کا گروہ  تازہ دم ہے شان وشوکت اور ان کا دبدبہ  زور باطل نے ابھارا ہے جہاں میں پھر سے سر  توڑ سکتا ہے طلسم شر کو ، فاروقی جگر  آج ہے یوم شہادت ، حضرتِ فاروق کا  آپ بھی نادم رہیں ہردم ثنا خوان عمر  ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد

دیدار کعبہ ،

 دیدار کعبہ  زائرین حرم کے دلوں میں مچلنے والے جذبات کی ترجمانی  آیا ہوں درپہ آپ کے مولی خوشی خوشی بخشش کی آس لے کے ، امیدیں نئ نئ کعبہ کا سامنا جو کیا ، دل مچل گیا۔۔    بے ساختہ زباں سے اللہ ، نکل گیا قلب ونظر کا حال، سراسر بدل گیا۔     دست کرم نے مجھ کو سنبھالا سنبھل گیا لبیک کی صدا تھی فضا میں مچی ہوئی۔ بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ کہتا تھا شوق عشق خدا ،سر کے بل چلو۔    راز و نیاز میں،ذرا کچھ دیر تک رہو دل سے بہا کے آنسو ندامت کا یوں کہو۔   فاغفر لنا ذنوبنا یا ربنا پڑھو پھر تیز تر ہوا، میرا احساس بے بسی بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ تھا زیب تن کیے ہوے عشاق سا لباس۔   ہمت جٹا کل آگیا کالے حجر کل پاس رکن یمن کے پاس کبھی ملتزم کے پاس۔  بوسہ لیا تو جاکے بجھی دید کی پیاس کھلنے لگا یہ راز، کہ کیا شۓ ہے بندگی ؟ بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ رکن طواف کرکے ادا ، میں کھڑا ہوا۔  دوگانہ اس مقام پہ پڑھ کر دعا کیا اپنے خدا کے سامنے حمد وثنا کیا۔  ان کے کرم کا دریا تھا ہر سو بہا ہوا پوری فضا تھی نو...

مرثیہ ، منظوم خراج عقیدت marsiya, manzoom kheraj e aqeedat

بروفات حضرت مولانا مفتی محمد عبد المغنی صاحب نوراللہ مرقدہ ناظم و بانی مدرسہ سبیل الفلاح بنڈلہ گوڑہ وصدرسٹی جمعیتِ علماءحیدرآبا     ازقلم: حضرت مولانا محمد انوارالحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلتے جلتے بجھ گئی آخر وہ شمعِ انجمن غمزدہ ہیں جن کی رحلت سے ہر اک اہلِ دکن مفتی عبدالمغنی جمعیّت کے تھے روشن چراغ ان سے کتنے فیض پاکر بن گئے روشن دماغ روز و شب پیتے پلاتے تھے ہدایت کا اَیاغ ذوق والے پارہے تھے دین و دنیا کا سُراغ  خدمتِ قوم و وطن میں لمحہ لمحہ تھے مگن  غمزدہ ہیں جن کی رحلت سے ہر اک اہلِ دکن بحرِ حکمت کے شِناور علم وفن کے رازداں قوم و ملت کےلئےرہتے تھے وہ آشفتہ جاں ہر گھڑی رکھتے تھے جاری کچھ نہ کچھ سرگرمیاں بس اسی دھن میں تھے وہ گاہے یہاں، گاہے وہاں دینِ حق پر کردیا قربان اپنا جان و تن غمزدہ ہیں جنکی رحلت سے ہر اک اہلِ دکن عصرِ حاضر کے مسائل سے تھے ہر دم باخبر  تھے اکابر کی نگاہوں میں بھی منظورِ نظر حق تعالی نے خطابت کا دیا تھا وہ ہنر جنکے خطبہ سے جھلک جاتی ھے امیدِ س...

زائر حرم کے کیف وسرور کی ترجمانی ، نظم۔

از قلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد*  نگاہ بھر کر عنایتوں کا نظامِ پروردگار دیکھو  حرمؔ کے چاروں طرف برستی وہ رحمتوں کی پھوار دیکھو   عجب نظارا مطافؔ میں ھے خدا کے بندوں کی بندگی کا  حیات انگیز منظروں کو ٹہر کے لیل و نہار دیکھو   ہر اہک رب کو منا رہاھے چمٹ چمٹ کر کے ملتزمؔ سے   ہر ایک بندہ کے ذہن و دل میں عجیب دھن ھے سوار دیکھو   برہنہ پاؤں برہنہ سر ھے کوئی اِدھر ھے کوئی اُدھر ھے   رضاۓ مولیٰ کی جستجو میں وہ کیف اور اضطرار دیکھو   صفاؔ و مروہؔ کی سعئ پہیم سے ڈھل رہی ھے حیاتِ برہم   وہ ہاجرہ ماں کی روح پرور تڑپ کی ھے یادگار دیکھو   براہِ میزابؔ رحمتِ رب برس رہی ھے حطیمؔ میں بھی   اُسی کرم کو سمیٹنے میں ہیں کتنے سب بے قرار دیکھو   تلاشتے ہیں ہر ایک زائر طواف کے بعد جس جگہ کو   وہ نقشِ پاۓ خلیلِؑ رب کا سُنہرا نقش و نگار دیکھو   وہ ایک سو بیس جس پہ رحمت خدا کی ہر دم اُتر رہی ھے    ہمارا قبلہ وہی ھے کعبہؔ لپک کے تم بار بار دیکھو ...

مرثیہ ، منظوم خراج عقیدت بر وفات ادیب زماں مولانا نور عالم خلیل امینی نور اللہ مرقدہ

منظوم خراج عقیدت   نتیجۂ فکر: حضرت مولانا محمد انوارالحق داؤد نادم قاسمی صاحب حفظہ اللہ مدھوراپور سیتامڑھی بہار حال مقیم حیدرآباد استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ بن مسعود رض حیدرآباد جہان علم وادب کے سلطاں تھے نور عالم خلیل امینی امین ملت، خلیل رحماں تھے نور عالم خلیل امینی وحید وسید میاں کے فیض نظر سے چمکے جہان بھر میں ابو الحسن کے بھی دل کے ارماں تھے نور عالم خلیل امینی عجم ہو یا ہو عرب کاصحرا، ادب میں ہر جا تھا ان شہرہ ادب کے دنیا کے مہر تاباں تھے نور عالم خلیل امینی ہے اب"پس مرگ"وہ بھی زندہ جو بن کے مانند "کوہ کن" تھے ادب نوازوں کے جان جاناں تھے نور عالم خلیل امینی قلم میں طاقت بیاں میں جرأت، تھی ان کی فکر و نظر میں ندرت وجود باطل پہ تیغ براں تھے نور عالم خلیل امینی وہ حال مسلم پہ غم زدہ تھے غم فلسطیں سے آبدیدہ ہر اک کے حق میں خوشی کے خواہاں تھے نور عالم خلیل امینی پڑھے کوئی ان کا "حرف شیریں"یا داستان حجاز ویثرب وہ کہہ اٹھے گا ادیب دوراں تھے نور عالم خلیل امینی وہ اپنے تابندہ فکروفن سے حسین فطرت کے بانکپن سے نگاہِ عرب وعجم میں یکساں تھے نور عالم خلیل امینی و...

پھیکی عید .

حضرت الاستاذ مولانا محمد انوار الحق داؤ نادم قاسمی حفظہ اللہ استاذ حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد کا کلام جو حضرت نے کورونا کے زمانہ میں پہلی عید الفطر کے موقع سے قلم بند فرمایا تھا وہ آپ قارئین کے حوالے ہے اگرچہ پھیکی سی عیداب کی، تمام دنیامنارہی ھے مگر یہی بات سونےوالوں کوغفلتوں سےجگارہی ھے جوسنّتِ شاہِ دیؐں سےہٹکرنئی ڈگر پرچلےہیں ابتک  نہ مل سکی انکوراہِ منزل، کتاب وسنّت بتارہی ھے  ہماری عیدیں،جگارہی ہیں محبّتوں کے حسین جذبے یہ سُونی سُونی سی عید؛ لیکن ہماری ہمّت بڑھارہی ھے ہمیں یہ فطرت سکھارہی ھےکہ گرکےاٹھناھےکامیابی ہماری یہ تازہ عید سب کویہی سبق توسکھارہی ھے مہِ مبارک میں بھی ہمارا یہ فاصلہ کم ہوانہ آخر ھے کچھ نہ کچھ اس میں ایسی سازش، جسے یہ دنیاچھپارہی ھے طِلِسمِ خوف و ہراس توڑو، عزیمتوں کےلباس پہنو   ادادکھاؤ!جہاں کواپنی،سداجوتیری ادارہی ھے 

مرثیہ ، marsiya

منظوم خراج عقیدت بروفات جامع المعقولات والمنقولات فقیہ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی نوراللہ مرقدہ سابق ناظم ،الجامعۃ العربیۃ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی بہار نتیجۂ فکر: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ استاذ حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد فقیہ ملت کی داستاں ہے، بڑے ادب سے سنا رہا ہوں قلم ہے خود میرا آبدیدہ، زمانہ بھر کو رلا رہا ہوں وہ علم و حکمت کے آسماں تھے، وہ حوصلہ بخش مہرباں تھے وہ بزم دانش کدہ میں اصلا ابو حنیفہ کے ترجماں تھے وہ پی کے چشم سعید سے ہی، بنے تھے دیوانہ علم و فن کا جھلک رہا تھا جبیں سے ان کی، سداوہ کردار کوہ کن کا وہ باغ دیوبند جاکے فضل خدا سے پائی تھی ہوش مندی اسی چمن سے عطاء ہوئی ،ان کو دولتِ درد وفکر مندی جہاں سے گزرے جدھر سے گزرے، رہے وہ ابر بہار بن کر وہ تشنگانِ علوم نبوی، کے حق میں تھے آبشار بن کر کبھی کھرایاں کبھی وہ کنہواں کبھی وہ مونگیر اور نوادہ کبھی وہ مؤ میں کبھی دکن میں لٹایا حکمت کا جام وبادہ رفاقت منت ومجاہد، سے بن گیے تھے وہ لعل و گوہر  نگاہ اہل نظر میں جوہر، تھے وہ مداوائے قلب مضطر وہ مسند درس پر رہے تو، نہیں تھا کوئی بھی ...

ترانہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی Tarana ashraful uloom kanhawan sitamarhi bihar

ترانہ الجامعۃ العربیہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی بہار  نتیجہ ٔ فکر حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ مدھوراپوری سیتامڑھی بہارحال مقیم حیدرآباد استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد           یہ علم وادب کا مخزن ہے، یہ اہل وفا کا مسکن ہے ہر قطرہ یہاں کا دریا ہے ہر پھول یہاں کا گلشن ہے مرکز ہے علوم قرآن کا گلشن ہے علوم نبوی کا ہررند یہاں کا شاہد ہے ساقی کی کشادہ ظرفی کا سیرابیٔ امت کی خاطر اک بادۂ علم و نور ہے یہ ہرجہل وضلالت کی خاطر اک جلوہ کوہ طور ہے یہ سرگرم عمل ہے آج تلک رفعت میں زمیں سے تا بفلک ہر سمت سے ظاہر ہوتی ہے اسلاف کی وہ روحانی جھلک جاری ہے یہاں پر برسوں سے فیضان نبی کا میخانہ گردش میں ہمیشہ رہتا ہے صوفی کا یہ جام و پیمانہ میخوار حکیم الامت کے اس درد کی اک تصویر ہے یہ دیکھا جو عزیز وواعظ نے اس خواب کی اک تعبیر ہے یہ طیب کی نواے سحری سے پردم ہے نفوس عرفانی خیرہ ہے گلوں کی تابش سے باطل کی نگاہ طغیانی ہے شان زبیر احمد سے عیاں اس باغ میں حسن و رعنائی وہ جن کے تفقہ کی دھن سے گلشن میں ہے ذوق دانائی ہیں شمع چمن اظہار الحق ہر بلبل و...

نعت رسول مقبول ﷺ , naat Shareef

                             نعت رسولﷺ  ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد  شہ دیں اگر نہ ہوتے ، تو نہ آسمان ہوتا نہ کہیں زمین ہوتی نہ کہیں مکان ہوتا ہے یہ جن وبشر ملائک ، یہ فلک قمر ستارے یہ چمن ، یہ پھول، خوشبو، کا نہ کچھ نشان ہوتا نہ وصال کی تمنّا ، لیے دل میں کوئی پھرتا نہ کسی کے دل کا کوئی ، کبھی ترجمان ہوتا کوئی اوج پر مکیں ہے ، کوئی بوریہ نشیں ہے یہ ترقی وتنزل ، کا نہ کچھ گمان ہوتا میرے بس میں یہ نہیں ہے ، کہ مدینہ جاؤں ورنہ درپاک پر پہنچ کر کبھی میہمان ہوتا نہ وفا کا ذکر ہوتا ، نہ جفا کی بات ہوتی نہ کوئی خوشی غمی کے ، کبھی درمیان ہوتا نہ کبھی کسی کے دل میں کوئی خواہشیں ابھرتی نہ کسی کی زندگی میں ، کبھی امتحان ہوتا میرے مصطفیٰ کے دل سے ، جو وفا شعار ہوتا توخدا بھی تجھ پہ نادم ، بڑا مہربان ہوتا  #نادم قاسمی  #nadim qasmi  #nazm,naat,hamd x

منظوم تاثرات manzoom ta,assurat

 منظوم تأثرات از قلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد محسن ملت کی ہیں مجھ پر کرم فرمائیاں  جن سے ہیں اس جامعہ میں رونق ورعنائیاں مانتا ہوں اپنے رب کے اس بڑے احسان کو دیکھ لی ہے جامعہ عثمان بن عفان کو در حقیقت یہ علاقہ ہے بے آب وگیاہ اس کو اپنے فضل سے آباد کردے، یا الہ! اس کے ظاہر سے ہویدا ، عظمت قرآن ہے دل کی آنکھوں سے جو دیکھو ،تو الگ ہی شان ہے اس کے پروردہ بنیں گے، ایک دن خود بے مثال اور بنیں گے باکمال وخوش بیان وخوش خصال طالبان دین کی ہر تشنگی کو دور کر ذرے ذرے کو الٰہی! تو مثال نور کر نیک لوگوں کی توجہ ، اس طرف مبذول کر اس کی اک اک خدمتوں کو اے خدا! مقبول کر اس کے بانی ، منتظم ، رکھتے ہیں اک عزم جواں ان کے سینے میں ہے ملت، کے لئے درد نہاں اہل دل ، اہل نظر ، کا اس پہ ہو سایہ دراز محسن ملت کی خدمت ، قابلِ صد رشک وناز دل کی گہرائی سے نادم ، دے رہا ہے یہ دعا اس کی خوشبو سے معطر ، ہو علاقہ کی فضا #nadim qasmi # نادم قاسمی  #نظم حمد نعت تہنیت نامہ سہرا 

سہرا . Sehra

 سہرا  از قلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد  سہرا بہ موقع شادی خانہ آبادی عزیزم حافظ مولانا محمد نوازش کریم مسعودی 🖋️ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی ، شیخ الحدیث مدرسہ عبداللہ ابنِ مسعود حیدرآباد  الطاف وعنایات ہیں رب  رحیم کی  شادی ھےآج میرےنوازش کریم کی آصف،نوازوغازی وتبریزومجاھد خوش ہیں غلامِ مصطفٰی، فاروق اورعابد فضلِ کریم ،طارق وعارف کی ھےدعاء پوراہواھےہاشم وزاھدکامدعا تکمیل ہوئ آج تمنائے مرشدہ شہزادی کی آمدپہ، وہ کہتی ہیں مرحبا عابد،امان،دل سےبہت شادمان ہیں نوشہ کی بدولت یہاں سب میہمان ہیں دلہن کواوردلہاکو،ہوشادی مبارک شادی بھی اورخانہ آبادی مبارک  رشتہ یہ سلامت رھے،تاحشرخدایا ملہریا مجگواں کاہوادورفاصلہ جاری رہےالفت کامحبت کا سلسلہ پروین ونوازش پہ سدا،رب کاہو سایہ نادم کی توجہ سےھےسھرےکانیاپھول یارب ہرایک دل کی دعاکیجئےقبول #نادم قاسمی  #nadim qasmi  #nazm hamd, naat

Filisteen فلسطین کے مسلمان

*کرتاہے تقاضا بڑی شدت سےیہ ایمان* ہمدردی کےقابل ہیں فلسطیں کےمسلمان اے لوگو! تعاون کرو ہر رنگ میں ان کا ہےشانِ مسلمان ، یہی شانِ مسلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازقلم:حضرت مولانا محمد انوار الحق داؤد نادمؔ قاسمی یکم شوال المکرم 1445ھ مطابق 11/اپریل/2024ء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

تہنیت نامہ ، tahniyat nama

Tahniyat nama. تہنیت نامہ  بیٹی کی ولادت پر تہنیت نامہ ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق داؤد نادم قاسمی سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد بخدمت: حضرت مولانا محمد افضل قاسمی مدظلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  باغِ افضل میں خدا کے فضل کی آئی بہار  مدتوں سے اس گھڑی کا تھا ہر اک کو انتظار  ہو مبارک آپ کو مولانا افضل قاسمی  ابر بن کر چھاگئی یہ نعمتِ پروردگار  اہلِ خانہ کے لئے بن کر رہے آنکھوں کا نور  پختہ تر ہوجاۓ ان میں دین و دنیا کا شعور  کارنامہ ان کا خوشبو کی طرح پھیلے سدا  یادِ حق کا ان کو بھی مل جاۓ کچھ کیف و سرور سنتِ نبوی سے ان کا ذہن و دل ہو فیضیاب  ہر ڈگر پر یا الٰہی کر دے ان کو کامیاب دل کی گہرائی سے نادم دیجئیے ان کو دعا روشنی بخشے جہاں کو بن کے مثلِ آفتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہنیت کے پھول

 تہنیت کے پھول از قلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد یہ کامرانی کا پہلا زینہ ، خوشی کی یہ ابتدا مبارک فضیل ندوی کا علم وفن میں نیا نیا ارتقا مبارک جنون آمیز محنتوں کا خدا نے ان کو صلہ دیا ہے ہو صحن مانو کا ذرہ ذرہ وہاں کی آب و ہوا مبارک وہ خواب جس کو سجا کے رکھا تھا مدتوں سے نگاہ و دل میں قبولیت کا شرف ملا جس کو تیری یہ التجا مبارک چمن کے مالی چمن کے گلچیں ہر ایک کے ہونٹوں پر یہ دعا ہے نیے چمن میں تمہاری آمد اے بلبل خوش نوا مبارک دعائے یعقوب و عبد حیٔ سے ہوا مکمل سفر یہ علمی جناب عبد الشکور و یوسف سہیل و ماں کی دعا مبارک دعائے عبد الغفور بیشک تمہارے حق میں ہوئی ثمر ور تمہارے حق میں وہ گڑ گڑا کر دعا سداے صبا مبارک ہوئی جو تحقیق پوری تیری تو جاگ اٹھا تیرا مقدر نشان منزل کی جستجو کا یہ لمحہ لمحہ ترا مبارک ہے قاسمی روح و فکر ندوی مزاج ہے پر بہار جس کا یہ ذوقِ علم وادب کے دم سے ادب کی نشوونما مبارک حبیب و نادم کی یہ دعا ہے بنیں رہیں آپ شمع محفل جلے کچھ ایسا چراغ علمی ہو جس کی لو جا بجا مبارک دعا ہے داؤد قاسمی کی ہر...

حمد باری تعالیٰ ، hamd baari

  حمد باری تعالی ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی بہار استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد نہ طاقت ہے تیری تعریف کرنے کی زبانوں میں تری قدرت ہے جلوہ گر زمین و آسمانوں میں ترے اک لفظ "کن" سے ہوگئ آباد یہ دنیا نمایاں ہے تری رحمت فضاؤں میں ہواؤں میں جدھر دیکھا جہاں دیکھا ہر اک شۓ میں تجھے پایا چمن کے ذرے ذرے میں خزاؤں میں بہاروں میں تیرے جیسا سخی کوی نہیں ہے سارے عالم میں کمی آئی نہ آئے گی کبھی تیرے خزانوں میں ترے ناموں کی برکت سے جہاں بھر میں ہے سرگرمی توہی تاثیر دیتا ہے دواؤں میں دعاؤں میں جو تجھ سے کٹ کے اپنی زندگی جیتے ہیں دنیا میں بہر صورت رہیں گے وہ جہنم کے عذابوں میں جلالی شان ظاہر ہورہی ہے ہر گھری تیری تیری مؤذن کی اذانوں میں مجاہد کی صداؤں میں صغیرہ یا کبیرہ ہر خطا پر دل سے ہوں نادم میرے مولیٰ ہمیں رکھیے سدا اپنی پناہوں میں #nadim qasmi  نادم قاسمی  https://islamicwebsite74.blogspot.com/2024/10/naat-shareef_10.html

Naat Shareef. نعت شریف ، اشک ندامت نے اتنا اثر کردیا

نعت شریف  اشک ندامت نے اتنا اثر کردیا ازقلم حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد   اشک ندامت نے اتنا اثر کردیا  ان کی نگاہوں میں نور نظر کردیا عشق وجنوں لیکر آقا کے قدموں پر حاضر ہوا جو بھی لعل وگہر کردیا ماہ رسالت ﷺ نے نور نبوت سے باطن کی ظلمت کو رشک قمر کردیا راہ ہدایت پر مجھ جیسے فاجر کو شمع یقیں دیکر محو سفر کردیا ظلم وعداوت کو شیریں اداؤں سے ابر کرم بن کر شیروشکر کردیا دل کی نگینے میں جب سے بسی الفت دنیا کی چاہت کو زیر وزبر کردیا شاہ دوعالم نے رب تک رسائی کی دشواریاں ساری آسان تر کردیا ڈالی سلاموں کی ان ﷺ پر نچھاور ہو حق دار دوزخ کا جنت میں گھر کردیا سر میں شفاعت کی امید ودھن لیکر قربان نادم نے جان وجگر کردیا 

منظوم تبصرہ ،manzoom tabsara.

*سوغات ماہر* پرمنظوم تبصرہ اثرانگیز ھے"سوغات ماہر" محبت خیزہے"سوغات ماہر" ادب کاخوشنما قوس قزح ھے جنوں آمیزھے"سوغات ماہر" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفکر میں تنوع اورندرت خدانےان کو بخشی ہےیہ قدرت مبارک ان کوشان امتیازی ملی جوفیض یوسف سےیہ قوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انو کھاان کا اندازبیاں ھے قلم کی نوک پر پیر وجواں ھے بلا کی شاعری، ماھرنےکی ھے ہراک مصرع سےیہ خوبی عیاں ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھےسہل ممتنع،اشعارماھر گرہ کش،دلربا،افکارماھر معاصراور نسل نو کےحق میں  مثالی رھنما،کردارماھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں شعلہ، کہیں پہ شعلہ رو ہیں وہ اپنی دھن میں محو گفتگو ہیں کہیں ھے شبنمی انداز ان کا سخنور ہیں،سخن کی آبروہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں اک گل، عقیدت کاچمن ھے تخیل میں غضب کابانکپن ھے ستارہ،چاند،سورج سےبھی آگے وہ منزل کی طلب میں یوں مگن ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خداکا شکرھےاب، ان پہ لازم مکمل ہوگئے، ان کےعزائم سدا دلکش رھے، قاری کےحق میں دعائیں دے رہا ھے دل سے نادم ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق داؤد نادم قاسمی،حیدرآباد #نادم قاسمی  #naadim qasmi x

نعت شریف۔ naat Shareef

 نعت شریف بڑھ گئی میرے دل میں جستجو مدینہ کی کر رہا ہوں ہر لمحہ گفتگو مدینہ کی  خاکِ طیبہ کی رونق کم کبھی نہیں ہوگی رب نے خود بڑھادی ھے آبرو مدینہ کی خوش نصیب ھے وہ دل جس کو ہوگئی حاصل  نسبتیں مدینہ کی آرزو مدینہ کی دلربا فضائیں ہیں خوشنما ھے ہر ذرّہ بے مثال ھے لوگوں ! رنگ و بو مدینہ کی عالمِ تصوُر میں٬ غرق ھے ابھی نادمؔ دیکھتا ھے تصویریں ہو بہو مدینہ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق ابنِ داؤد نادمؔ قاسمی مدھوراپوری سیتامڑھی شیخ الحدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد

صلاۃ وسلام ، خاتم الانبیاء سید المرسلین

 صلاۃ وسلام ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی بہار خاتم الانبیاء سیدالمرسلیں  احمدِ مُجتبیٰ٬ شافع المُذنِبیں آسمانِ ہدایت کے ماہِ مُبیں صورۃً سیرۃً ہیں وہ سب سے حسیں شاہِ کون ومکاں ھےوہ عالی مقام ان پہ لاکھوں٬کروڑوں٬درودوسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہیں فخرِ عجم اورشاہِ عرب ہرخوشی ھےجہاں بھرمیں انکےسبب    ان کی رفتاوگفتاربھی ھےعجب مال وزر٬ جاں ٬فدا ان پہ کرتےہیں سب ان پہ ھےحق تعالیٰ کی رحمت مُدام ان پہ لاکھوں کروڑوں درودوسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری امّت پہ اُن کایہ احسان ہے  چلتاپھرتاسراپا٬وہ قرآن ھے رب تعالیٰ بھی ان کاثناخوان ھے جو مخالف ھے ان کا وہ نادان ھے  وہ ہیں خیرُالبشراورخیرالانام ان پہ لاکھوں کروڑوں درودوسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جھک گئے ان کوشاہ وگدادیکھکر ابتدادیکھکر٬انتہادیکھکر باحیادیکھکر٬باوفادیکھکر ان کی بےمثل جودوسخادیکھکر ان کی برکت سےنادم بھی ھےنیک نام ان پہ لاکھوں کروڑوں درودوسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از قلم:حضرت مولانا محمد انوارالحق داؤد نادم قاسمی سیتامڑھی  استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد  ...

نظم ، یوم آزادی

 یومِ آزادی ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق دؤد نادمؔ قاسمی صاحب حفظہ اللہ سیتامڑھی حال مقیم حیدرآباد ________________ #نادم قاسمی #یوم آزادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرچمِ عہدِ وفا پھر سے اٹھایا جائے  "یومِ آزادی" مسرت سے منایا جائے اک نئی صبح کا آغاز ہو اس بھارت میں الفت و پیار کا وہ دیپ جلایا جائے ملک انگریز کے چَنْگُل سے تو آزاد ہوا دستِ ظالم سے بھی آزاد کرایا جائے دیش کا امن ھے گل مثلِ چراغِ سحری دوستو! امن کا ماحول بنایا جائے کب تلک دیش میں یوں ظلم پھلے پھولے گا؟ خوگرِ ظلم کو انصاف سکھایا جائے حق و انصاف تو اس دیش سے اب عنقا ھے اپنا دکھ درد یہاں کس کو سنایا جائے رہزن قوم و وطن پھرتے ہیں رہبر بن کر کون رہبر ھے حقیقی یہ بتایا جائے ملک کی عظمتِ رفتہ کو کیا جائے بحال اپنے بھارت کو نئی راہ پہ لایا جائے امن و یکجہتی ہی اس دیش کا، سرمایہ ھے نسلِ نو کو یہی پیغام سنایا جائے خود بخود کلچر و تہذیب پنپ جائے گی پہلے انسان کو انسان بنایا جائے  نفرت و پھوٹ تعصُّب کا گھنیرا سایہ  حسن تدبیر سے ان سب کو مٹایا جائے جس کی ہر شاخ سے الفت کی بہاریں ٹپکیں " گلشن ہند" میں...

نظم

 *طلبۂ جامعہ عثمان بن عفان کو نھر پارکرانےکادلربا، دلنشیں اور دلخراش منظر دیکھ کر  ناظمِ جامعہ کی شان میں برجستہ فی البدیہ منظوم کلام۔ نگاہِ رب میں ہوں محسن کی محنتیں بھی قبول دیارِجہل کو یارب! بنادے علم کا پھول ہرایک ذرہ یہاں رشکِ ماہتاب بنے ہرایک دل میں ہوعشقِ خدا وعشقِ رسول عبورِ نالہ کامنظرہےدلخراش بہت دعاءِ محسنِ ملت سےرحمتوں کانزول ہے فارسی کی شروعات سے خوشی کی لہر ہوا کرے گا اسی سے ترقیوں کا حصول حقیقتوں کا نگر ھے محبتوں کا چمن  کبھی نہ چھیڑے یہاں کوئی داستانِ فضول  چمک دمک یوں ہی باقی رہے بفضلِ خدا نہ داغ آۓ کبھی جامعہ پہ اور نہ دھول حیاتِ روح کا باعث ھے جامعہ کی فضا یہاں پہ کوئی نہ نادم رہے فسردہ ملول ____________________ ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

Ghazal غزل