حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ

تصویر
حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ وبانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد 

مرثیہ ، marsiya

منظوم خراج عقیدت بروفات جامع المعقولات والمنقولات فقیہ ملت حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی نوراللہ مرقدہ
سابق ناظم ،الجامعۃ العربیۃ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی بہار

نتیجۂ فکر: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ استاذ حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد



فقیہ ملت کی داستاں ہے، بڑے ادب سے سنا رہا ہوں

قلم ہے خود میرا آبدیدہ، زمانہ بھر کو رلا رہا ہوں


وہ علم و حکمت کے آسماں تھے، وہ حوصلہ بخش مہرباں تھے

وہ بزم دانش کدہ میں اصلا ابو حنیفہ کے ترجماں تھے


وہ پی کے چشم سعید سے ہی، بنے تھے دیوانہ علم و فن کا

جھلک رہا تھا جبیں سے ان کی، سداوہ کردار کوہ کن کا


وہ باغ دیوبند جاکے فضل خدا سے پائی تھی ہوش مندی

اسی چمن سے عطاء ہوئی ،ان کو دولتِ درد وفکر مندی


جہاں سے گزرے جدھر سے گزرے، رہے وہ ابر بہار بن کر

وہ تشنگانِ علوم نبوی، کے حق میں تھے آبشار بن کر


کبھی کھرایاں کبھی وہ کنہواں کبھی وہ مونگیر اور نوادہ

کبھی وہ مؤ میں کبھی دکن میں لٹایا حکمت کا جام وبادہ


رفاقت منت ومجاہد، سے بن گیے تھے وہ لعل و گوہر 

نگاہ اہل نظر میں جوہر، تھے وہ مداوائے قلب مضطر


وہ مسند درس پر رہے تو، نہیں تھا کوئی بھی ان کا ثانی

وہ ساٹھ برسوں تلک کیے ہیں، ہزاروں طالب کی میزبانی


نہ جانے علمی مقالےکتنے، لکھے تھے خون جگر سے اپنے

سجاے رہتے تھے روز وشب وہ، دل ونگہ میں ہزار سپنے


ہو نحو یا ہو کہ صرف ومنطق، ادب ہو یا فلسفہ معانی

سدا انہوں نے کیا ہے اقلیم فن پہ حکمت سے حکمرانی


وہ بن کے شیخ الحدیث اہل نظر کی نظروں میں چھاگیے تھے

وہ درس و تدریس میں اتر کر مقام معراج پاگیے تھے


خزاں رسیدہ چمن میں آیا، تو ساتھ اپنے بہار لایا

نئے عزائم نئ تمنا سے باغ اشرف کو جگمگایا


حیات نو کی وہ روح پھونکی، علوم و عرفاں کے کارواں میں

وہ سوز بخشا وہ ساز بخشا، نہ تھا جو پہلے کبھی گماں میں


ثری سے لیکر وہ تاثریا، بٹھا دیا دل میں اس کی عظمت

ہوئی ہے مرعوب جس سے دنیا، عطاء کیا ہے وہ شان وشوکت


جلادیا بے ہنر کے دل میں نہ جانے کتنے چراغ علمی

سکھا کے تفسیر آیت رب، اصول فقہ وحدیث فہمی


تھے نیک طینت سکھارہے تھے ضیوف احمد کو پاکبازی

سفال ہندی میں ڈال کر وہ پلارہے تھے مئے حجازی


تھا قابل رشک سب سے زیادہ، کتاب بینی سے استفادہ

سبق ملا ان کی زندگی سے، یہی ہے اہلِ ہنر کا جادہ


وہ کارطیب کے جانشین تھے، وہ باغ اشرف کے نیک ناظم

چمن کے معیار کو بڑھایا، رہ عزیمت پہ چل کے دائم


وصال حضرت زبیر احمد، سے غم زدہ ہے چمن یہ سارا

فلک بھی دیکھا بچشم حیرت،وہ روح فرسا ہر اک نظارہ


کلی کلی کی زباں سے نکلی، دعا یہ بہر فقیہ ملت

مرے خدا تو معاف کرکے، نوازدے ان کو باغ جنت


نوازدے ان کے وارثوں کو متاع صبر جمیل دیکر

میرے الہی!رہ سفر میں انہیں سا روشن دلیل دیکر


یہ سچ ہے نادم کہ ان کی محنت خدا کی رحمت سے رنگ لائ

ملے گی طالب کو ان کی اک ایک کارنامے سے رہنمائی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

Ghazal غزل