اشاعتیں

واجبات نماز لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

غسل میں کتنے فرض ہیں

 غسل میں اصولی طور پر تو ایک ہی فرض ہے یعنی پورے جسم میں جہاں تک تکلیف ومشقت کے بغیر پانی پہنچ سکے وہاں تک پانی پہنچانا، لیکن فقہاء کرام نے اسے آسان اور منضبط کرنے کے لیے غسل کے تین فرائض بیان کیے ہیں: ۱-منہ بھر کر کلی یا غرارہ کرنا۔ ۲-ناک کی نرم ہڈی تک پانی چڑھانا۔ ۳- پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔ نیز غسل کرنے سے قبل ہی چھوٹا بڑا استنجا کرلینا چاہیے ، یعنی چھوٹی بڑی دونوں شرم گاہوں کو دھولیاجائے، اگرچہ ان پر کوئی نجاست نہ لگی ہو، اور اگر نجاست لگی ہو تو اس نجاست کو بھی دھولیاجائے ، پھر اگر جسم پر کہیں اور کوئی نجاست جیسے منی وغیرہ لگی ہو تو اس کو پاک کردیاجائے ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مرد و عورت دونوں کے غسل میں تین ہی فرائض ہیں، لہٰذا عورت کے لیے غسل میں انگلیوں پر کپڑا لپیٹ کر اس کپڑے سے شرم گاہ کو صاف کرنے کو فرض قرار دینا اور یہ کہنا کہ عورت کے غسل میں چار فرائض ہوتے ہیں، درست نہیں ہے، ہاں عورت کے لیے شرم گاہ کے خارجی حصے کو بھی دھونا چاہیے؛ کیوں کہ یہاں پانی پہنچانے میں حرج نہیں ہے، اسی بات کو فقہاءِ کرام نے صراحتًا ذکر کردیا ہے، جیسے ...

غزل

غزل تب ایک شخص نہیں خاندان بولتا ہے زبان کھول کے جب بد زبان بولتا ہے کلام کرتا ہوں اردو زبان میں لوگو!! مرے کلام میں ہندوستان بولتا ہے اُس ایک بات سے میں اختلاف رکھتا ہوں وہ ایک بات جو سارا جہان بولتا ہے مقامِ ہجر پہ پہنچے ہیں جو وہ کہتے ہیں شبِ فراق میں اکثر مکان بولتا ہے فضاءِ دہر میں اٹھتا ہے ایک طوفاں سا  جب انقلاب کوئی نوجوان بولتا ہے امیرِ وقت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں ذرا سا سخت جو ہو کر کسان بولتا ہے کہاں کہاں سے مٹاؤ گے خون کے دھبے قبا پہ آپ کی خوں کا نشان بولتا ہے نسیم خان تہِ تیغ آ کے آخرِ کار حریفِ جان مرا الامان بولتا ہے نسیم خان

نماز کے شرائط اور فرائض

نماز کی سات شرائط ہیں: ۱۔ بدن کا پاک ہونا۔ ۲۔کپڑوں کاپاک ہونا۔ ۳۔ جگہ کاپاک ہونا۔ ۴۔ ستر کا چھپانا۔ ۵۔ نماز کا وقت ہونا۔ ۶۔ قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ ۷۔ نیت کرنا۔  اور نماز میں چھ چیزیں فرض ہیں : ۱۔تکبیر تحریمہ، یعنی "اللہ اکبر" کہہ کر نماز شروع کرنا۔ ۲۔قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض  ہے۔ ۳۔ قراءۃ (تلاوت کرنا) ۴۔رکوع ۔ ۵۔سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔ ۶۔  قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔

واجبات نماز

واجبات نماز (١٤) چودہ ہیں (۱) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ پڑھنا۔  (۲) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں،سورہ ملانا۔  (۳) سورہٴ فاتحہ کو سورہ پر مقدم کرنا۔  (۴) قرأة اور رکوع کے درمیان ترتیب رکھنا۔  (۵) تعدیل ارکان کرنا۔  (۶) قعدہ اولیٰ کرنا۔  (۷) دونوں قعدے میں تشہد پڑھنا۔  (۸) لفظ سلام کے ساتھ سلام پھیرنا۔  (۹) نماز وتر میں دعاء قنوت پڑھنا۔  (۱۰) تکبیرات عیدین کہنا (۶/ زائد) ۔  (۱۱) جہری نماز میں قرأة جہری کرنا۔  (۱۲) سرّی نماز میں آہستہ قرأة کرنا۔  (۱۳) مقتدی کا امام کے پیچھے خاموش رہنا۔  (۱۴) مقتدی کے لئے امام کی متابعت کرنا۔  بعض لوگوں نے دو چار واجبات اور لکھے ہیں مگر وہ مختلف فیہ ہیں۔ (درمختار مع الشامی: ۱/۱۴۳) 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ