غزل

 غزل 📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 وطن سے کیوں نئی ہجرت دوبارہ کر نہیں جاتا  پریشاں ہے حکومت کیوں مسلماں ڈر نہیں جاتا مرا ہر لفظ اس باعث درِ نایاب جیسا ہے   معانی کے سمندر سے کبھی باہر نہیں جاتا  انا کے ساتھ وابستہ جو رکھتا ہے مراسم کو کبھی احساس کا چھو کر اسے پیکر نہیں جاتا قسم اللہ کی تب تک مچلتا ہی رہے گا دل لہو سے سینہء شمشیر جب تک بھر نہیں جاتا مسائل کی ہوا اس کے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے مسافر در بدر پھرتا ہے لیکن گھر نہیں جاتا خدا کے ذکر سے قلب و نظر میں جان پڑتی ہے خدا کے ذکر سے ایمان دل میں مر نہیں جاتا رِہا ہو کر قفس سے گو زمانے بیت جاتے ہیں اسیری کا نگاہوں سے مگر منظر نہیں جاتا  نسیم خان

نظم ، یوم آزادی

 یومِ آزادی




ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق دؤد نادمؔ قاسمی صاحب حفظہ اللہ سیتامڑھی حال مقیم حیدرآباد


________________


#نادم قاسمی

#یوم آزادی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پرچمِ عہدِ وفا پھر سے اٹھایا جائے 


"یومِ آزادی" مسرت سے منایا جائے


اک نئی صبح کا آغاز ہو اس بھارت میں


الفت و پیار کا وہ دیپ جلایا جائے


ملک انگریز کے چَنْگُل سے تو آزاد ہوا


دستِ ظالم سے بھی آزاد کرایا جائے


دیش کا امن ھے گل مثلِ چراغِ سحری


دوستو! امن کا ماحول بنایا جائے


کب تلک دیش میں یوں ظلم پھلے پھولے گا؟


خوگرِ ظلم کو انصاف سکھایا جائے


حق و انصاف تو اس دیش سے اب عنقا ھے


اپنا دکھ درد یہاں کس کو سنایا جائے


رہزن قوم و وطن پھرتے ہیں رہبر بن کر


کون رہبر ھے حقیقی یہ بتایا جائے


ملک کی عظمتِ رفتہ کو کیا جائے بحال


اپنے بھارت کو نئی راہ پہ لایا جائے


امن و یکجہتی ہی اس دیش کا، سرمایہ ھے


نسلِ نو کو یہی پیغام سنایا جائے


خود بخود کلچر و تہذیب پنپ جائے گی


پہلے انسان کو انسان بنایا جائے


 نفرت و پھوٹ تعصُّب کا گھنیرا سایہ 


حسن تدبیر سے ان سب کو مٹایا جائے


جس کی ہر شاخ سے الفت کی بہاریں ٹپکیں


" گلشن ہند" میں وہ پھول لگایا جائے 


اک نیا کیف، نیا جوش و مسرت بخشے


 نغمئہ مہر و وفا پھر سے سنایاجائے


 دیش کی عزت و عظمت کو سلامت رکھنا


 ایک فریضہ ہے ہمارا، یہ بتایا جائے


حسنِ تعمیر سے تشکیل کریں عمدہ حیات


 کوہِ تخریب کو رستہ سے ہٹایا جائے


تاکہ خفتہ دلِ بیمار بھی انگڑائی لے


 ذکرِ اسلاف بھری بزم میں لایا جائے


قومی جھنڈے کو محبت کی سلامی دے کر


 ہاتھ تو ہاتھ ہے، پلکوں پہ ا ٹھایا جائے


شعرِ نادمؔ میں ہے پیغامِ سکوں سب کے لئے


 اس کو پڑھ کر دلی جذبوں کو جگایا جائے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

واجبات نماز

بڑھ گئ میرے دل میں جستجو مدینہ کی