غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ، ولولہ انگیز کلام

 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کی مناسبت سے ولولہ انگیز کلام 

ہم نشین جان عالم ، جانشین یار غار 

حق کو پھیلاتے رہے ، دنیا میں جو لیل ونہار 

نخوت کسری کو شان قیصری کو خم کیا 

ان کے دم سے عالم اسلام میں آئی بہار 


دیکھ کر جن کو بدل لیتا تھا شیطاں، راستہ 

ذہن ودل تھا جن کا ، امن وعدل سے آراستہ 

جن سے ہے مرعوب اب تک ، اہل باطل کا گروہ 

تازہ دم ہے شان وشوکت اور ان کا دبدبہ 


زور باطل نے ابھارا ہے جہاں میں پھر سے سر 

توڑ سکتا ہے طلسم شر کو ، فاروقی جگر 

آج ہے یوم شہادت ، حضرتِ فاروق کا 

آپ بھی نادم رہیں ہردم ثنا خوان عمر 


ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت