غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

پھیکی عید .

حضرت الاستاذ مولانا محمد انوار الحق داؤ نادم قاسمی حفظہ اللہ
استاذ حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد
کا کلام جو حضرت نے کورونا کے زمانہ میں پہلی عید الفطر کے موقع سے قلم بند فرمایا تھا وہ آپ قارئین کے حوالے ہے



اگرچہ پھیکی سی عیداب کی، تمام دنیامنارہی ھے

مگر یہی بات سونےوالوں کوغفلتوں سےجگارہی ھے


جوسنّتِ شاہِ دیؐں سےہٹکرنئی ڈگر پرچلےہیں ابتک 

نہ مل سکی انکوراہِ منزل، کتاب وسنّت بتارہی ھے 


ہماری عیدیں،جگارہی ہیں محبّتوں کے حسین جذبے

یہ سُونی سُونی سی عید؛ لیکن ہماری ہمّت بڑھارہی ھے


ہمیں یہ فطرت سکھارہی ھےکہ گرکےاٹھناھےکامیابی

ہماری یہ تازہ عید سب کویہی سبق توسکھارہی ھے


مہِ مبارک میں بھی ہمارا یہ فاصلہ کم ہوانہ آخر

ھے کچھ نہ کچھ اس میں ایسی سازش، جسے یہ دنیاچھپارہی ھے


طِلِسمِ خوف و ہراس توڑو، عزیمتوں کےلباس پہنو

  ادادکھاؤ!جہاں کواپنی،سداجوتیری ادارہی ھے 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت