*طلبۂ جامعہ عثمان بن عفان کو نھر پارکرانےکادلربا، دلنشیں اور دلخراش منظر دیکھ کر
ناظمِ جامعہ کی شان میں برجستہ فی البدیہ منظوم کلام۔
نگاہِ رب میں ہوں محسن کی محنتیں بھی قبول
دیارِجہل کو یارب! بنادے علم کا پھول
ہرایک ذرہ یہاں رشکِ ماہتاب بنے
ہرایک دل میں ہوعشقِ خدا وعشقِ رسول
عبورِ نالہ کامنظرہےدلخراش بہت
دعاءِ محسنِ ملت سےرحمتوں کانزول
ہے فارسی کی شروعات سے خوشی کی لہر
ہوا کرے گا اسی سے ترقیوں کا حصول
حقیقتوں کا نگر ھے محبتوں کا چمن
کبھی نہ چھیڑے یہاں کوئی داستانِ فضول
چمک دمک یوں ہی باقی رہے بفضلِ خدا
نہ داغ آۓ کبھی جامعہ پہ اور نہ دھول
حیاتِ روح کا باعث ھے جامعہ کی فضا
یہاں پہ کوئی نہ نادم رہے فسردہ ملول
____________________
ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں