غزل

 غزل 📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 وطن سے کیوں نئی ہجرت دوبارہ کر نہیں جاتا  پریشاں ہے حکومت کیوں مسلماں ڈر نہیں جاتا مرا ہر لفظ اس باعث درِ نایاب جیسا ہے   معانی کے سمندر سے کبھی باہر نہیں جاتا  انا کے ساتھ وابستہ جو رکھتا ہے مراسم کو کبھی احساس کا چھو کر اسے پیکر نہیں جاتا قسم اللہ کی تب تک مچلتا ہی رہے گا دل لہو سے سینہء شمشیر جب تک بھر نہیں جاتا مسائل کی ہوا اس کے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے مسافر در بدر پھرتا ہے لیکن گھر نہیں جاتا خدا کے ذکر سے قلب و نظر میں جان پڑتی ہے خدا کے ذکر سے ایمان دل میں مر نہیں جاتا رِہا ہو کر قفس سے گو زمانے بیت جاتے ہیں اسیری کا نگاہوں سے مگر منظر نہیں جاتا  نسیم خان

دیدار کعبہ ،

 دیدار کعبہ 

زائرین حرم کے دلوں میں مچلنے والے جذبات کی ترجمانی 

آیا ہوں درپہ آپ کے مولی خوشی خوشی
بخشش کی آس لے کے ، امیدیں نئ نئ

کعبہ کا سامنا جو کیا ، دل مچل گیا۔۔    بے ساختہ زباں سے اللہ ، نکل گیا
قلب ونظر کا حال، سراسر بدل گیا۔     دست کرم نے مجھ کو سنبھالا سنبھل گیا

لبیک کی صدا تھی فضا میں مچی ہوئی۔
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

کہتا تھا شوق عشق خدا ،سر کے بل چلو۔    راز و نیاز میں،ذرا کچھ دیر تک رہو
دل سے بہا کے آنسو ندامت کا یوں کہو۔   فاغفر لنا ذنوبنا یا ربنا پڑھو

پھر تیز تر ہوا، میرا احساس بے بسی
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

تھا زیب تن کیے ہوے عشاق سا لباس۔   ہمت جٹا کل آگیا کالے حجر کل پاس
رکن یمن کے پاس کبھی ملتزم کے پاس۔  بوسہ لیا تو جاکے بجھی دید کی پیاس

کھلنے لگا یہ راز، کہ کیا شۓ ہے بندگی ؟
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

رکن طواف کرکے ادا ، میں کھڑا ہوا۔  دوگانہ اس مقام پہ پڑھ کر دعا کیا
اپنے خدا کے سامنے حمد وثنا کیا۔  ان کے کرم کا دریا تھا ہر سو بہا ہوا

پوری فضا تھی نور کا جلوہ بنی ہوئی
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

پھر شوق کے قدم سے بڑھا جانب صفا۔  یاد آگئی وہاں پہ مجھے اماں ہاجرہ
از مروہ تا صفا رہا یادوں کا سلسلہ۔  ان اہل دل کی یاد سے بڑھتا تھا حوصلہ


منظر یہ دیکھ کر کے بڑھی دل کی تازگی
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

احرام کے لباس میں خم ہوگئ جبیں۔   ہونے لگی کشادہ محبت کی سرزمیں
اس پاک گھر سے بڑھ کے بھی ہے کچھ،؟ نہیں نہیں۔   ہے جلوہ گاہ رب ، یہ مکاں اور سب مکیں


رحمت کا سلسلہ رہے اب ساری زندگی
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

ہیں آپ میزبان یہ عاصی ہے میہمان۔   راہ طلب میں آپ نہ لیں میرا امتحان
میرے گنہ پہ ڈال دے بخشش کا سائبان۔۔   رطب اللسان ہو آپ کی یادوں میں یہ زبان

کھیتی حیات کی رہے ہردم ہری بھری
بخشش کی آس لے کے امیدیں نئ نئ

کرلیجئے خدا میرے حج کو بھی اب قبول۔    اور اپنی معرفت کا سکھا دیجیے اصول
مجھ کو بھی اب بنا دیجیے اب عاشق رسول ﷺ    نادم نہ کیجئے کبھی اب گفتگو فضول

مولی بلاتے رہیے گا مکہ کبھی کبھی
از قلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

واجبات نماز

نظم ، یوم آزادی

بڑھ گئ میرے دل میں جستجو مدینہ کی