غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

تہنیت کے پھول

 تہنیت کے پھول
از قلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبد اللہ ابن مسعود حیدرآباد






یہ کامرانی کا پہلا زینہ ، خوشی کی یہ ابتدا مبارک

فضیل ندوی کا علم وفن میں نیا نیا ارتقا مبارک


جنون آمیز محنتوں کا خدا نے ان کو صلہ دیا ہے

ہو صحن مانو کا ذرہ ذرہ وہاں کی آب و ہوا مبارک


وہ خواب جس کو سجا کے رکھا تھا مدتوں سے نگاہ و دل میں

قبولیت کا شرف ملا جس کو تیری یہ التجا مبارک


چمن کے مالی چمن کے گلچیں ہر ایک کے ہونٹوں پر یہ دعا ہے

نیے چمن میں تمہاری آمد اے بلبل خوش نوا مبارک


دعائے یعقوب و عبد حیٔ سے ہوا مکمل سفر یہ علمی

جناب عبد الشکور و یوسف سہیل و ماں کی دعا مبارک


دعائے عبد الغفور بیشک تمہارے حق میں ہوئی ثمر ور

تمہارے حق میں وہ گڑ گڑا کر دعا سداے صبا مبارک


ہوئی جو تحقیق پوری تیری تو جاگ اٹھا تیرا مقدر

نشان منزل کی جستجو کا یہ لمحہ لمحہ ترا مبارک


ہے قاسمی روح و فکر ندوی مزاج ہے پر بہار جس کا

یہ ذوقِ علم وادب کے دم سے ادب کی نشوونما مبارک


حبیب و نادم کی یہ دعا ہے بنیں رہیں آپ شمع محفل

جلے کچھ ایسا چراغ علمی ہو جس کی لو جا بجا مبارک


دعا ہے داؤد قاسمی کی ہر اک قدم پر ہو کامرانی

عمل کے میداں میں سرخ روئی ہو تم کو اور ارتقا مبارک

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت