حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ
google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے اطراف جو کلکاریاں ہیں
یہ سب بے وقت کی شہنائیاں ہیں
ابھی بھی شہر سے بہتر ہے گاؤں
ابھی بھی گاؤں میں پگڈنڈیاں ہیں
رہِ حق میں اتر جاتی ہے گردن
بہت اس راہ میں دشواریاں ہیں
نہ لے جاؤ مجھے بزمِ طرب میں
مرے کاندھوں پہ ذمہ داریاں ہیں
لیے پھرتا ہے کاسہ شاہزادہ
یہ سب حالات کی انگڑائیاں ہیں
کوئی عہدِ وفا کیسے نبھاے
ہر اک کی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ہیں
رہائی کا کوئی امکاں نہیں ہے
کہ ہم پر عشق کی پابندیاں ہیں
کٹہرے میں مجھے لایا گیا ہے
پسِ زندان کی تیاریاں ہیں
افق پر دل کے میرے چھائی ہر سو
کسی کی یاد کی پرچھائیاں ہیں
ہمیں بے خوف جو رکھتی ہیں سب سے
ہماری روح کی بیداریاں ہیں
میاں یہ کوچہء جاناں ہے سن لو
یہاں بدنامیاں،،،رسوائیاں ہیں
نسیم خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں