غزل 📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 وطن سے کیوں نئی ہجرت دوبارہ کر نہیں جاتا پریشاں ہے حکومت کیوں مسلماں ڈر نہیں جاتا مرا ہر لفظ اس باعث درِ نایاب جیسا ہے معانی کے سمندر سے کبھی باہر نہیں جاتا انا کے ساتھ وابستہ جو رکھتا ہے مراسم کو کبھی احساس کا چھو کر اسے پیکر نہیں جاتا قسم اللہ کی تب تک مچلتا ہی رہے گا دل لہو سے سینہء شمشیر جب تک بھر نہیں جاتا مسائل کی ہوا اس کے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے مسافر در بدر پھرتا ہے لیکن گھر نہیں جاتا خدا کے ذکر سے قلب و نظر میں جان پڑتی ہے خدا کے ذکر سے ایمان دل میں مر نہیں جاتا رِہا ہو کر قفس سے گو زمانے بیت جاتے ہیں اسیری کا نگاہوں سے مگر منظر نہیں جاتا نسیم خان
غزل
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے اطراف جو کلکاریاں ہیں
یہ سب بے وقت کی شہنائیاں ہیں
ابھی بھی شہر سے بہتر ہے گاؤں
ابھی بھی گاؤں میں پگڈنڈیاں ہیں
رہِ حق میں اتر جاتی ہے گردن
بہت اس راہ میں دشواریاں ہیں
نہ لے جاؤ مجھے بزمِ طرب میں
مرے کاندھوں پہ ذمہ داریاں ہیں
لیے پھرتا ہے کاسہ شاہزادہ
یہ سب حالات کی انگڑائیاں ہیں
کوئی عہدِ وفا کیسے نبھاے
ہر اک کی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ہیں
رہائی کا کوئی امکاں نہیں ہے
کہ ہم پر عشق کی پابندیاں ہیں
کٹہرے میں مجھے لایا گیا ہے
پسِ زندان کی تیاریاں ہیں
افق پر دل کے میرے چھائی ہر سو
کسی کی یاد کی پرچھائیاں ہیں
ہمیں بے خوف جو رکھتی ہیں سب سے
ہماری روح کی بیداریاں ہیں
میاں یہ کوچہء جاناں ہے سن لو
یہاں بدنامیاں،،،رسوائیاں ہیں
نسیم خان
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
واجبات نماز
واجبات نماز (١٤) چودہ ہیں (۱) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ پڑھنا۔ (۲) فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنن و نوافل کی تمام رکعتوں میں،سورہ ملانا۔ (۳) سورہٴ فاتحہ کو سورہ پر مقدم کرنا۔ (۴) قرأة اور رکوع کے درمیان ترتیب رکھنا۔ (۵) تعدیل ارکان کرنا۔ (۶) قعدہ اولیٰ کرنا۔ (۷) دونوں قعدے میں تشہد پڑھنا۔ (۸) لفظ سلام کے ساتھ سلام پھیرنا۔ (۹) نماز وتر میں دعاء قنوت پڑھنا۔ (۱۰) تکبیرات عیدین کہنا (۶/ زائد) ۔ (۱۱) جہری نماز میں قرأة جہری کرنا۔ (۱۲) سرّی نماز میں آہستہ قرأة کرنا۔ (۱۳) مقتدی کا امام کے پیچھے خاموش رہنا۔ (۱۴) مقتدی کے لئے امام کی متابعت کرنا۔ بعض لوگوں نے دو چار واجبات اور لکھے ہیں مگر وہ مختلف فیہ ہیں۔ (درمختار مع الشامی: ۱/۱۴۳)
نظم ، یوم آزادی
یومِ آزادی ازقلم: حضرت مولانا محمد انوار الحق دؤد نادمؔ قاسمی صاحب حفظہ اللہ سیتامڑھی حال مقیم حیدرآباد ________________ #نادم قاسمی #یوم آزادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرچمِ عہدِ وفا پھر سے اٹھایا جائے "یومِ آزادی" مسرت سے منایا جائے اک نئی صبح کا آغاز ہو اس بھارت میں الفت و پیار کا وہ دیپ جلایا جائے ملک انگریز کے چَنْگُل سے تو آزاد ہوا دستِ ظالم سے بھی آزاد کرایا جائے دیش کا امن ھے گل مثلِ چراغِ سحری دوستو! امن کا ماحول بنایا جائے کب تلک دیش میں یوں ظلم پھلے پھولے گا؟ خوگرِ ظلم کو انصاف سکھایا جائے حق و انصاف تو اس دیش سے اب عنقا ھے اپنا دکھ درد یہاں کس کو سنایا جائے رہزن قوم و وطن پھرتے ہیں رہبر بن کر کون رہبر ھے حقیقی یہ بتایا جائے ملک کی عظمتِ رفتہ کو کیا جائے بحال اپنے بھارت کو نئی راہ پہ لایا جائے امن و یکجہتی ہی اس دیش کا، سرمایہ ھے نسلِ نو کو یہی پیغام سنایا جائے خود بخود کلچر و تہذیب پنپ جائے گی پہلے انسان کو انسان بنایا جائے نفرت و پھوٹ تعصُّب کا گھنیرا سایہ حسن تدبیر سے ان سب کو مٹایا جائے جس کی ہر شاخ سے الفت کی بہاریں ٹپکیں " گلشن ہند" میں...
بڑھ گئ میرے دل میں جستجو مدینہ کی
نعت شریف از قلم:حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی صاحب سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد بڑھ گئی میرے دل میں جستجو مدینہ کی کر رہا ہوں ہر لمحہ گفتگو مدینہ کی خاکِ طیبہ کی رونق کم کبھی نہیں ہوگی رب نے خود بڑھادی ھے آبرو مدینہ کی خوش نصیب ھے وہ دل جس کو ہوگئی حاصل نسبتیں مدینہ کی آرزو مدینہ کی دلربا فضائیں ہیں خوشنما ھے ہر ذرّہ بے مثال ھے لوگوں ! رنگ و بو مدینہ کی عالمِ تصوُر میں٬ غرق ھے ابھی نادمؔ دیکھتا ھے تصویریں ہو بہو مدینہ کی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں