غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

غزل

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مرے اطراف جو کلکاریاں ہیں 

یہ سب بے وقت کی شہنائیاں ہیں 


ابھی بھی شہر سے بہتر ہے گاؤں

ابھی بھی گاؤں میں پگڈنڈیاں ہیں 


رہِ حق میں اتر جاتی ہے گردن

بہت اس راہ میں دشواریاں ہیں


نہ لے جاؤ مجھے بزمِ طرب میں

مرے کاندھوں پہ ذمہ داریاں ہیں


لیے پھرتا ہے کاسہ شاہزادہ 

یہ سب حالات کی انگڑائیاں ہیں


کوئی عہدِ وفا کیسے نبھاے 

ہر اک کی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ہیں


رہائی کا کوئی امکاں نہیں ہے

کہ ہم پر عشق کی پابندیاں ہیں


کٹہرے میں مجھے لایا گیا ہے 

پسِ زندان کی تیاریاں ہیں


افق پر دل کے میرے چھائی ہر سو

کسی کی یاد کی پرچھائیاں ہیں


ہمیں بے خوف جو رکھتی ہیں سب سے

ہماری روح کی بیداریاں ہیں 


میاں یہ کوچہء جاناں ہے سن لو

یہاں بدنامیاں،،،رسوائیاں ہیں


نسیم خان

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت