اشاعتیں

دسمبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غزل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں کہہ رہا مدعا مت کہیں میرے منہ پر کہیں،،جا بجا مت کہیں  عہدِ نو کے یزیدی کا فرمان ہے سامنے میرے کیوں اور کیا مت کہیں بندگی میں خدا کی اسے کاٹ دیں  زندگی کو خدا کی سزا مت کہیں حکم جاری ہوا کرسیء عدل سے عدل کی بات کو برملا مت کہیں ہم ہمیشہ سے ہیں داعیء انقلاب ہم کو اغیار کا ہم نوا مت کہیں مجموعی طور پر ہم جو بے حس ہوے اس کو ادنی کوئی واقعہ مت کہیں  بارہا مجھ سے یہ حکمراں نے کہا ایک ہی بات کو بارہا مت کہیں کلمہ گو سارے اک ہی گھرانے سے ہیں امتی کو نبی سے جدا مت کہیں لا شریک لہ،، لا مثیل لہ جز خدا اور کسی کو خدا مت کہیں یہ بھی مظلوم کے ساتھ اک ظلم ہے ظالموں کو کبھی مرحبا مت کہیں نسیم خان 

غزل

تو دیکھ لینا ________________________________ سنہری کرنوں سے جگمگاتی ہوئی منڈیروں پہ بیٹھ کر جب کوئی پری وش نہ گنگناۓ ،  کوئی پرندہ نہ چہچہاۓ ،  کوئی پپیہا نہ گیت گاۓ تو دیکھ لینا  کوئی درندہ حسین تتلی کے پر اکھاڑے گلا دباۓ گلوں کی پژمردہ پتیوں کو  دھویں کے بادل اچھالتے ہوں  حنا کے رنگوں میں جھلملاتی ہر ایک دلہن ،   ہر ایک مریم ، ہر ایک سیتا ، وہ آصفہ ہو کہ نربھیا ہو کہ کوئی گڑیا وجود کے کرب آگہی سے ،  حیات کے جبر بے بسی سے   نہ جیت پاۓ  تو دیکھ لینا   یہ دیکھ لینا --- کہ بند کمروں کے  سونے سونے سے طاقچوں میں سجی ہوئی ہیں جو کچھ کتابیں  لرز رہی ہیں  وہ امن نامے ، وہ عہد نامے ،  اصول و دستور کے صحیفے ، وہ ضابطے امن وآشتی کے ،  ضمانتوں کے سبھی نوشتے ، حسین سپنے برابری کے  غرور کثرت کے زعم بیجا کی ٹھوکروں میں پڑے ہوۓ ہیں افق سے اٹھتے ہوۓ بگولوں سے سرخ آندھی پنپ رہی ہے  یہ تاج والے خراج والے ، یہ کل کے طوفاں سے آنکھ موندے سے آج والے  انا کی ضد پر اڑے ہوۓ ہیں  تو روزن ابر سے ستار...

تہنیت کے پھول

مفتی محمّد صبغت اللہ قاسمی کے فرزند کے نام تہنیت کےپھول ازقلم: محمد انوار الحق داؤد نادمؔ قاسمی مدھوراپوری حیدرآباد صبغت کے گھرانے میں، نعمان کی پیدائش   مخفی تھی جو دل میں وہ، پوری ہوئ اب خواہش یہ وارثِ صبغت ہو اور وارثِ رضواں ہو   انوارِ الہی کی، ہو ان پہ سدا بارش ہو اس کی حیات اچھی, اسلام کے ساۓ میں   بافیض رہے ہردم*، *نعمان کی ہر کاوش   دادا کی دعاؤں سے نانا کی اداؤں سے   میخانۂ علمی بھی*، *خوب اس پہ کرے نازش   اللہ کی الفت سے، مخلوق کی خدمت سے   نافع رہے اس کا بھی ہر علم وہنر دانش أحمد ہو، کہ حمد اللہ، فضل اللہ، سمیع اللہ   پوری ہوئ ہر دل کی، خاموش سی فرمائش   دادی کی دعائیں ہیں، نانی کی تمنا ہے   اخلاص ووفا یارب! دے قوتِ فہمائش نادم کی دعاء یہ ہے، نعماں کے لیے ہردم   دارین میں یا اللہ! دے اس کو بھی آسائش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسبِ فرمائش: عزیزم مولانا مفتی محمد صبغت اللہ قاسمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‌‌

نعت شریف

نعت شریف  عقیدت سپردِ قلم کر رہے ہیں  کہ ہم نعتِ احمد رقم کر رہے ہیں  کبھی ہیں تصور میں طیبہ کی گلیاں کبھی ہم طوافِ حرم کر رہے ہیں عطا کر کے ذِکر محمد لبوں کو خدا ہم پہ رحم و کرم کر رہے ہیں شفا کے لیے خاکِ طیبہ اٹھا کر مسیحا نفس ہم پہ دم کر رہے ہیں مدینہ میں ہے حاضری کی تمنا جہاں والے ہم پر ستم کر رہے ہیں لگا کر کے سینہ سے تصویرِ طیبہ فنا اپنے رنج و الم کر رہے ہیں بہت یاد حضرت محمد کو کر کے خدا کی قسم آنکھ نم کر رہے ہیں ابھی ہم فرشتوں کے ماحول میں ہیں ابھی ذکرِ شاہِ اُمم کر رہے ہیں  گدائے محمد کی کر کے گدائی سرِ دست کارِ اہم کر رہے ہیں۔ کلام : نسیم خان 

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی پانچ شرائط ہیں : ۱۔ شہر یا قصبہ یا اس کا فنا(مضافات) ہونا۔ ۲۔  ظہر کا وقت ہونا۔ ۳۔  ظہر  کے وقت میں نمازِ  جمعہ سے پہلے خطبہ ہونا۔ ۴۔ جماعت یعنی امام کے علاوہ  کم از   کم تین بالغ مردوں کا خطبے کی ابتدا سے پہلی رکعت کے سجدہ تک موجود رہنا۔ ۵۔اذنِ عام (یعنی نماز قائم کرنے والوں کی طرف سے نماز میں آنے والوں کی اجازت) کے ساتھ نمازِ جمعہ کا پڑھنا۔ موجودہ حالات میں  ظاہری  تدابیر  اختیار کرنے کے ساتھ  ساتھ  مساجد کو آباد رکھنے اور اللہ کی جانب رجوع کرنے کی زیادہ فکر کرنی چاہیے، البتہ اگر کہیں پر حکومت کی طرف سے مساجد میں باجماعت نماز وں پر پابندی ہو تو ایسی صورتِ حال میں اپنے اپنے گھروں وغیرہ پر باجماعت نمازوں کے اہتمام کی کوشش کرنی چاہیے۔ جمعہ کی نماز کے لیے چوں کہ شریعت میں جماعت کی شرط ہے؛  لہذا شہر میں یا فنائے (اطراف )شہریا بڑی بستی میں گھر یا کسی اور مقام میں امام کے علاوہ کم ازکم تین بالغ مرد نمازی ہوں  اور ان کی طرف سے دوسرے آنے والوں کو نماز میں شرکت س...

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

Ghazal غزل