حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ

تصویر
حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ وبانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد 

غزل

تو دیکھ لینا

________________________________

سنہری کرنوں سے جگمگاتی ہوئی منڈیروں پہ بیٹھ کر جب

کوئی پری وش نہ گنگناۓ ،

 کوئی پرندہ نہ چہچہاۓ ،

 کوئی پپیہا نہ گیت گاۓ


تو دیکھ لینا 


کوئی درندہ حسین تتلی کے پر اکھاڑے گلا دباۓ

گلوں کی پژمردہ پتیوں کو 

دھویں کے بادل اچھالتے ہوں 

حنا کے رنگوں میں جھلملاتی ہر ایک دلہن ، 

 ہر ایک مریم ، ہر ایک سیتا ،

وہ آصفہ ہو کہ نربھیا ہو کہ کوئی گڑیا

وجود کے کرب آگہی سے ،

 حیات کے جبر بے بسی سے

  نہ جیت پاۓ 


تو دیکھ لینا  


یہ دیکھ لینا ---

کہ بند کمروں کے 

سونے سونے سے طاقچوں میں

سجی ہوئی ہیں جو کچھ کتابیں

 لرز رہی ہیں 

وہ امن نامے ، وہ عہد نامے ،

 اصول و دستور کے صحیفے ،

وہ ضابطے امن وآشتی کے ، 

ضمانتوں کے سبھی نوشتے ،

حسین سپنے برابری کے 

غرور کثرت کے زعم بیجا کی ٹھوکروں میں پڑے ہوۓ ہیں

افق سے اٹھتے ہوۓ بگولوں سے سرخ آندھی پنپ رہی ہے 

یہ تاج والے خراج والے ،

یہ کل کے طوفاں سے آنکھ موندے سے آج والے 

انا کی ضد پر اڑے ہوۓ ہیں 

تو روزن ابر سے ستارہ کوئی افق پر جو جگمگاۓ 


تو دیکھ لینا


کہیں نشیمن اجڑ رہے ہوں  

ستم کے طوفان اٹھ رہے ہوں 

گلے عدالت کے گھٹ رہے ہوں 

سزا سے بےخوف چیل کوے کسی کبوتر کو نوچتے ہوں 

لہو میں انصاف کے سنے ہوں 

وہ ہاتھ

 تھی جن کی ذمہ داری نظام گلشن کی پاسداری

وہ دامن عدل پھاڑتے ہوں

رخ عدالت کو نوچتے ہوں 

ہری زمینوں پہ سرخ شبنم پڑی ہوئی ہو 

دیا کی دیوی ، ستم کی چوکھٹ پہ سرجھکائے کھڑی ہوئی ہو 

پھر ایسی صورت میں کوئی آکر اگر وفا کا سبق پڑھاۓ 


تو دیکھ لینا


سرفراز بزمی


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

Ghazal غزل