غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی پانچ شرائط ہیں :

۱۔ شہر یا قصبہ یا اس کا فنا(مضافات) ہونا۔

۲۔  ظہر کا وقت ہونا۔

۳۔  ظہر  کے وقت میں نمازِ  جمعہ سے پہلے خطبہ ہونا۔

۴۔ جماعت یعنی امام کے علاوہ  کم از   کم تین بالغ مردوں کا خطبے کی ابتدا سے پہلی رکعت کے سجدہ تک موجود رہنا۔

۵۔اذنِ عام (یعنی نماز قائم کرنے والوں کی طرف سے نماز میں آنے والوں کی اجازت) کے ساتھ نمازِ جمعہ کا پڑھنا۔

موجودہ حالات میں  ظاہری  تدابیر  اختیار کرنے کے ساتھ  ساتھ  مساجد کو آباد رکھنے اور اللہ کی جانب رجوع کرنے کی زیادہ فکر کرنی چاہیے، البتہ اگر کہیں پر حکومت کی طرف سے مساجد میں باجماعت نماز وں پر پابندی ہو تو ایسی صورتِ حال میں اپنے اپنے گھروں وغیرہ پر باجماعت نمازوں کے اہتمام کی کوشش کرنی چاہیے۔

جمعہ کی نماز کے لیے چوں کہ شریعت میں جماعت کی شرط ہے؛  لہذا شہر میں یا فنائے (اطراف )شہریا بڑی بستی میں گھر یا کسی اور مقام میں امام کے علاوہ کم ازکم تین بالغ مرد نمازی ہوں  اور ان کی طرف سے دوسرے آنے والوں کو نماز میں شرکت سے ممانعت نہ ہو، اور جس جگہ نماز قائم ہو وہاں کا دروازہ کھلا ہو تو نمازِ جمعہ ادا کی جاسکتی ہے۔

اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد پہلی اذان دی جائے،اور سنتیں ادا کی جائیں ، پھر امام منبر یا کرسی وغیرہ  پر بیٹھ جائے اور اس کے سامنے دوسری اذان دی جائے ، دوسری اذان کے بعد   امام دو خطبے دے کر نمازجمعہ پڑھائے۔

لیکن اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو  شہر، فنائے شہر اور بڑی بستی میں جمعہ کی بجائے ظہر کی نماز  انفرادی طور پر ادا کی جائے گی۔فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ جمعہ کے دن مصر یا فنائے مصر میں ظہر کی نماز جماعت سے ادا کرنا مکروہ ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1 / 259):

"وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1 / 261):

"فأما إذا لم يكن إمامًا بسبب الفتنة أو بسبب الموت ولم يحضر وال آخر بعد حتى حضرت الجمعة ذكر الكرخي أنه لا بأس أن يجمع الناس على رجل حتى يصلي بهم الجمعة". فقط والله أعلم


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت