حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ
google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں کہہ رہا مدعا مت کہیں
میرے منہ پر کہیں،،جا بجا مت کہیں
عہدِ نو کے یزیدی کا فرمان ہے
سامنے میرے کیوں اور کیا مت کہیں
بندگی میں خدا کی اسے کاٹ دیں
زندگی کو خدا کی سزا مت کہیں
حکم جاری ہوا کرسیء عدل سے
عدل کی بات کو برملا مت کہیں
ہم ہمیشہ سے ہیں داعیء انقلاب
ہم کو اغیار کا ہم نوا مت کہیں
مجموعی طور پر ہم جو بے حس ہوے
اس کو ادنی کوئی واقعہ مت کہیں
بارہا مجھ سے یہ حکمراں نے کہا
ایک ہی بات کو بارہا مت کہیں
کلمہ گو سارے اک ہی گھرانے سے ہیں
امتی کو نبی سے جدا مت کہیں
لا شریک لہ،، لا مثیل لہ
جز خدا اور کسی کو خدا مت کہیں
یہ بھی مظلوم کے ساتھ اک ظلم ہے
ظالموں کو کبھی مرحبا مت کہیں
نسیم خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں