اشاعتیں

جنوری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غزل

غزل مر گئے گل شاخ پر عرصہ ہوے   ہم چمن میں کیوں نوا پیرا ہوے احسنِ تقوم تھے پہلے کبھی اب یہ حالت ہے کہ خاکِ پا ہوے اہلِ دل پر آو اک محفل کریں  عشق پر مدت ہوئی چرچا ہوے ہم متاعِ عشق پانے کے لیے کوچہ و بازار میں رسوا ہوے صفحہء تاریخ سے کرئیے رجوع ہم تھے کیا اور ہاے کیا سے کیا ہوے ہم ابھی منزل سے کچھ ہی دور تھے  آستیں میں سانپ کچھ پیدا ہوے شمس اور رومی کی اب ہے جستجو جبکہ ہے معلوم وہ عنقا ہوے ہم نے میناۓ غزل بس نوش کی شیخ صاحب آپ کیوں غصہ ہوے؟؟ زندگی پیاری نہیں ہم کو کہ ہم موت کی آغوش میں پیدا ہوے ساری دنیا کو کیا سیراب تھا ہاے اب ہم قطرہء دریا ہوے نسیم خان 

غزل

غزل ہو جاے ترے نام پہ رسوائی ذرا اور کر مجھ پہ کرم پیکرِ رعنائی ذرا اور  سوچا ہے کہ اب گیسوے اردو کو سنواروں  شعروں میں کروں قافیہ پیمائی ذرا اور آ تا کہ مرے دل کو سکوں آے میسر  آ پاس مرے وحشتِ تنہائی ذرا اور  اسرار زمانے کے لبوں سے مرے کھلتے  ہوتی جو مرے درد کی گہرائی ذرا اور  وحشت کا بدن تا کہ  ہو دو لخت مرے یار  یوں تیز ہو شمشیرِ شناسائی ذرا اور میدانِ محبت میں ابھی آپ نئے ہیں  لازم ہے ابھی آپ کی پسپائی ذرا اور آنکھوں میں مری اشک کے دو بوند نہیں ہیں اور دل ہے کہ غم کا ہے تمنائی ذرا اور  نادانیاں کرنے میں تامل نہیں کرتے ہوتی جو اگر آپ میں دانائی ذرا اور  نسیم خان

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

Ghazal غزل