غزل

 غزل 📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 وطن سے کیوں نئی ہجرت دوبارہ کر نہیں جاتا  پریشاں ہے حکومت کیوں مسلماں ڈر نہیں جاتا مرا ہر لفظ اس باعث درِ نایاب جیسا ہے   معانی کے سمندر سے کبھی باہر نہیں جاتا  انا کے ساتھ وابستہ جو رکھتا ہے مراسم کو کبھی احساس کا چھو کر اسے پیکر نہیں جاتا قسم اللہ کی تب تک مچلتا ہی رہے گا دل لہو سے سینہء شمشیر جب تک بھر نہیں جاتا مسائل کی ہوا اس کے ہمیشہ ساتھ رہتی ہے مسافر در بدر پھرتا ہے لیکن گھر نہیں جاتا خدا کے ذکر سے قلب و نظر میں جان پڑتی ہے خدا کے ذکر سے ایمان دل میں مر نہیں جاتا رِہا ہو کر قفس سے گو زمانے بیت جاتے ہیں اسیری کا نگاہوں سے مگر منظر نہیں جاتا  نسیم خان

غزل

غزل


ہو جاے ترے نام پہ رسوائی ذرا اور

کر مجھ پہ کرم پیکرِ رعنائی ذرا اور 


سوچا ہے کہ اب گیسوے اردو کو سنواروں 

شعروں میں کروں قافیہ پیمائی ذرا اور


آ تا کہ مرے دل کو سکوں آے میسر 

آ پاس مرے وحشتِ تنہائی ذرا اور 


اسرار زمانے کے لبوں سے مرے کھلتے 

ہوتی جو مرے درد کی گہرائی ذرا اور 


وحشت کا بدن تا کہ  ہو دو لخت مرے یار 

یوں تیز ہو شمشیرِ شناسائی ذرا اور


میدانِ محبت میں ابھی آپ نئے ہیں 

لازم ہے ابھی آپ کی پسپائی ذرا اور


آنکھوں میں مری اشک کے دو بوند نہیں ہیں

اور دل ہے کہ غم کا ہے تمنائی ذرا اور 


نادانیاں کرنے میں تامل نہیں کرتے

ہوتی جو اگر آپ میں دانائی ذرا اور 


نسیم خان

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

واجبات نماز

نظم ، یوم آزادی

بڑھ گئ میرے دل میں جستجو مدینہ کی