حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ
google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE
غزل
ہو جاے ترے نام پہ رسوائی ذرا اور
کر مجھ پہ کرم پیکرِ رعنائی ذرا اور
سوچا ہے کہ اب گیسوے اردو کو سنواروں
شعروں میں کروں قافیہ پیمائی ذرا اور
آ تا کہ مرے دل کو سکوں آے میسر
آ پاس مرے وحشتِ تنہائی ذرا اور
اسرار زمانے کے لبوں سے مرے کھلتے
ہوتی جو مرے درد کی گہرائی ذرا اور
وحشت کا بدن تا کہ ہو دو لخت مرے یار
یوں تیز ہو شمشیرِ شناسائی ذرا اور
میدانِ محبت میں ابھی آپ نئے ہیں
لازم ہے ابھی آپ کی پسپائی ذرا اور
آنکھوں میں مری اشک کے دو بوند نہیں ہیں
اور دل ہے کہ غم کا ہے تمنائی ذرا اور
نادانیاں کرنے میں تامل نہیں کرتے
ہوتی جو اگر آپ میں دانائی ذرا اور
نسیم خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں