📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان
غزل
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
غزل
ہو جاے ترے نام پہ رسوائی ذرا اور
کر مجھ پہ کرم پیکرِ رعنائی ذرا اور
سوچا ہے کہ اب گیسوے اردو کو سنواروں
شعروں میں کروں قافیہ پیمائی ذرا اور
آ تا کہ مرے دل کو سکوں آے میسر
آ پاس مرے وحشتِ تنہائی ذرا اور
اسرار زمانے کے لبوں سے مرے کھلتے
ہوتی جو مرے درد کی گہرائی ذرا اور
وحشت کا بدن تا کہ ہو دو لخت مرے یار
یوں تیز ہو شمشیرِ شناسائی ذرا اور
میدانِ محبت میں ابھی آپ نئے ہیں
لازم ہے ابھی آپ کی پسپائی ذرا اور
آنکھوں میں مری اشک کے دو بوند نہیں ہیں
اور دل ہے کہ غم کا ہے تمنائی ذرا اور
نادانیاں کرنے میں تامل نہیں کرتے
ہوتی جو اگر آپ میں دانائی ذرا اور
نسیم خان
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
Naat Shareef نعت شریف
📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 بنی نوع بشر میں آپ کو برتر بناتے ہیں خدا انسانیت کا آپ کو رہبر بناتے ہیں ہے ویسے تو جہاں سارا خدا کی ذات کا مظہر الگ سب سے محمد کا مگر پیکر بناتے ہیں درودِ پاک پڑھتے ہیں ادب سے آنکھ موندے ہم تصور میں مدینہ کا حسیں منظر بناتے ہیں اُنہیں دل کی طرف عشقِ نبی الہام ہوتا ہے عقیدت کا محمد کی جو دل کو گھر بناتے ہیں نبی کی سنتوں کو کر کے اپنی ذات پر نافذ دلوں میں اہل باطل کے ہم اپنا ڈر بناتے ہیں ہمیں آقاء دو عالم سے نسبت ہے جہاں والو!! سو ہم بنیاد کا اپنی اسے پتھر بناتے ہیں فراقِ مصطفی میں چیخ پڑتا ہے شجر واللہ صحابہ جب نبی کے واسطے منبر بناتے ہیں حضورِ پاک کے صدقہ خدا سے مانگ کر دیکھو خدا بگڑے ہوے حالات کو بہتر بناتے ہیں خدا کا خاص ہوتا ہے کرم جس پر بھی دنیا میں خدا اس شخص کو سادات کا نوکر بتاتے ہیں نسیم خان
Naat نعت
📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 صدقہ حبیبِ پاک کا پایا تھا اور بس مجھ کو خدا نے اپنا بنایا تھا اور بس دل ہوتے ہوتے رشکِ فلک ہو گیا مرا عشقِ نبی کو اس میں بسایا تھا اور بس لکھنے لگا ہوں فرطِ عقیدت میں نعت جو طیبہ مرے خیال میں آیا تھا اور بس روضہ پہ ہو سکا تھا دمِ حاضری یہی اشکوں کا ایک سیل بہایا تھا اور بس دل کے بہت قریب مرے آگئے حضور دل کو جہان بھر سے ہٹایا تھا اور بس چہرہ چھپا رہا تھا اُدھر چودھویں کا چاند چہرہ اِدھر نبی نے دکھایا تھا اور بس حرکت میں آ گئے تھے فرشتے نسیم خاں صلی علی زبان پہ آیا تھا اور بس نسیم خان
طیبہ کا مسافر ہوں طیبہ مجھے جانے دو نعت شریف
نعت شریف ازقلم : محمد انوارالحق داؤدقاسمی حیدرآباد طیبہ کامسافرہوں ٬طیبہ مجھےجانےدو طیبہ کاحسیں منظرآنکھوں میں سجانےدو یہ دورھےنفرت کا٬فتنوں کازمانہ ھے رگ رگ میں محمد کی الفت کوبسانےدو الحادکی زدمیں ھے٬امت کی نئی نسلیں سوئی ہوئی ملّت کوحکمت سےجگانےدو صدیق وعمرجیسا٬عثمان وعلی جیسا کرداربنانےدو٬اخلاق بنانےدو واللیل کی تفسیریں٬ والعصر کی تشریحیں پھرآیتِ قرآنی٬جرأت سےسنانےدو برسوں سے یہی حسرت٬دل میں تھی چھپی نادم سرکارکےروضہ ھے٬اک نعت سنانےدو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں