اشاعتیں

نومبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ  سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔ سوال میں مذکورہ طریقہ سجدہ سہو کے لیے مسنون نہیں، البتہ اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔ الفتاوى الهندية (1/ 125): "(الباب الثاني عشر في سجود السهو) وهو واجب، كذا في التبيين هو الصحيح، كذا في الهداية والوجوب مقيد بما إذا كان الوقت صالحا حتى إن من عليه السهو في صلاة الصبح إذا لم يسجد حتى طلعت الشمس بعد السلام الأول سقط عنه السجود وكذا ...

بڑھ گئ میرے دل میں جستجو مدینہ کی

نعت شریف از قلم:حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی صاحب سیتامڑھی استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد  بڑھ گئی میرے دل میں جستجو مدینہ کی کر رہا ہوں ہر لمحہ گفتگو مدینہ کی  خاکِ طیبہ کی رونق کم کبھی نہیں ہوگی رب نے خود بڑھادی ھے آبرو مدینہ کی خوش نصیب ھے وہ دل جس کو ہوگئی حاصل نسبتیں مدینہ کی آرزو مدینہ کی دلربا فضائیں ہیں خوشنما ھے ہر ذرّہ بے مثال ھے لوگوں ! رنگ و بو مدینہ کی عالمِ تصوُر میں٬ غرق ھے ابھی نادمؔ دیکھتا ھے تصویریں ہو بہو مدینہ کی

طیبہ کا مسافر ہوں طیبہ مجھے جانے دو نعت شریف

 نعت شریف ازقلم : محمد انوارالحق داؤدقاسمی حیدرآباد طیبہ کامسافرہوں ٬طیبہ مجھےجانےدو طیبہ کاحسیں منظرآنکھوں میں سجانےدو یہ دورھےنفرت کا٬فتنوں کازمانہ ھے رگ رگ میں محمد کی الفت کوبسانےدو الحادکی زدمیں ھے٬امت کی نئی نسلیں سوئی ہوئی ملّت کوحکمت سےجگانےدو صدیق وعمرجیسا٬عثمان وعلی جیسا کرداربنانےدو٬اخلاق بنانےدو واللیل کی تفسیریں٬ والعصر کی تشریحیں پھرآیتِ قرآنی٬جرأت سےسنانےدو برسوں سے یہی حسرت٬دل میں تھی چھپی نادم سرکارکےروضہ ھے٬اک نعت سنانےدو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غسل میں کتنے فرض ہیں

 غسل میں اصولی طور پر تو ایک ہی فرض ہے یعنی پورے جسم میں جہاں تک تکلیف ومشقت کے بغیر پانی پہنچ سکے وہاں تک پانی پہنچانا، لیکن فقہاء کرام نے اسے آسان اور منضبط کرنے کے لیے غسل کے تین فرائض بیان کیے ہیں: ۱-منہ بھر کر کلی یا غرارہ کرنا۔ ۲-ناک کی نرم ہڈی تک پانی چڑھانا۔ ۳- پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔ نیز غسل کرنے سے قبل ہی چھوٹا بڑا استنجا کرلینا چاہیے ، یعنی چھوٹی بڑی دونوں شرم گاہوں کو دھولیاجائے، اگرچہ ان پر کوئی نجاست نہ لگی ہو، اور اگر نجاست لگی ہو تو اس نجاست کو بھی دھولیاجائے ، پھر اگر جسم پر کہیں اور کوئی نجاست جیسے منی وغیرہ لگی ہو تو اس کو پاک کردیاجائے ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مرد و عورت دونوں کے غسل میں تین ہی فرائض ہیں، لہٰذا عورت کے لیے غسل میں انگلیوں پر کپڑا لپیٹ کر اس کپڑے سے شرم گاہ کو صاف کرنے کو فرض قرار دینا اور یہ کہنا کہ عورت کے غسل میں چار فرائض ہوتے ہیں، درست نہیں ہے، ہاں عورت کے لیے شرم گاہ کے خارجی حصے کو بھی دھونا چاہیے؛ کیوں کہ یہاں پانی پہنچانے میں حرج نہیں ہے، اسی بات کو فقہاءِ کرام نے صراحتًا ذکر کردیا ہے، جیسے ...

غزل

غزل تب ایک شخص نہیں خاندان بولتا ہے زبان کھول کے جب بد زبان بولتا ہے کلام کرتا ہوں اردو زبان میں لوگو!! مرے کلام میں ہندوستان بولتا ہے اُس ایک بات سے میں اختلاف رکھتا ہوں وہ ایک بات جو سارا جہان بولتا ہے مقامِ ہجر پہ پہنچے ہیں جو وہ کہتے ہیں شبِ فراق میں اکثر مکان بولتا ہے فضاءِ دہر میں اٹھتا ہے ایک طوفاں سا  جب انقلاب کوئی نوجوان بولتا ہے امیرِ وقت کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں ذرا سا سخت جو ہو کر کسان بولتا ہے کہاں کہاں سے مٹاؤ گے خون کے دھبے قبا پہ آپ کی خوں کا نشان بولتا ہے نسیم خان تہِ تیغ آ کے آخرِ کار حریفِ جان مرا الامان بولتا ہے نسیم خان

نماز کے شرائط اور فرائض

نماز کی سات شرائط ہیں: ۱۔ بدن کا پاک ہونا۔ ۲۔کپڑوں کاپاک ہونا۔ ۳۔ جگہ کاپاک ہونا۔ ۴۔ ستر کا چھپانا۔ ۵۔ نماز کا وقت ہونا۔ ۶۔ قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ ۷۔ نیت کرنا۔  اور نماز میں چھ چیزیں فرض ہیں : ۱۔تکبیر تحریمہ، یعنی "اللہ اکبر" کہہ کر نماز شروع کرنا۔ ۲۔قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض  ہے۔ ۳۔ قراءۃ (تلاوت کرنا) ۴۔رکوع ۔ ۵۔سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔ ۶۔  قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔

نعت رسولﷺ

 حضور شیخ السلام و المسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے یہ نعت پاک لکھی اور اسی کی برکت سے فورا آپکا بخار ٹھیک ہوگیا۔اس نعت شریف میں عربی فارسی اور اردو کے الفاظ کا حسین امتزاج ہے۔ مندرجہ ذیل میں ترجمہ کے ساتھ نعت شریف پیش ہے: آں جملہ رسل ہادی برحق کہ گزشتند  برفضلِ تو اے ختم رسل دادہ گواہی (آج تک جتنے سچے رسول گزرے ہیں، اے خاتم المرسلین ! سب نے آپ کی بزرگی کی گواہی دی ہے)  در خَلق و در خُلق توئی نیّر اعظم  لاتُدرک اوصافک لم تُدر کَمَاہی (صورت اور سیرت میں آپ آفتاب عالمتاب ہیں ۔ نہ آپ کے اوصاف کا احاطہ کیا جاسکتاہے اور نہ ہی ان کی حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے)  یا احسن یا اجمل یا اکمل اکرم  واللہ باخلاقک فی الملا یُباہی (اے سب سے زیادہ حسین ! سب سے زیادہ جمیل ، سب سے زیادہ کامل ، سب سے زیادہ سخی ! ملائکہ کی محفل میں اللہ تعالی آپ کے اخلاق پر فخر کرتا ہے)  تو باعث تکوین معاشی و معادی  اے عبد الہ ہست مسلم بتو شاہی (یارسول اللہ! دنیا اور آخرت کی تکوین کا باعث آپ ہیں ۔ اے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے کونین کی شاہی تجھے بخشی گئی ہے)...

خودی کا فلسفہ سن کر دعائیں کانپ اٹھتی ہیں

خودی کا فلسفہ سن کر دعائیں کانپ اٹھتی ہیں  چراغِ دِل کی حِدت سے ہوائیں کانپ اٹھتی ہیں سلاخیں اپنے زنداں کی ذرا مضبوط رکھنا تم   کہ شاہیں پھڑپھڑائے تو فضائیں کانپ اٹھتی ہیں ہمیں مصلوب کرکے بھی بہت مایوس ہوگے تم   ہماری مسکراہٹ پر سزائیں کانپ اٹھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  عابی مکھنوی 

نعت شریف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھی سیہ رات کہ مشعل لیے جگنو آے یادِ طیبہ میں مری آنکھ سے آنسو آے میں نے کاغذ پہ لکھا اسمِ محمد،،یعنی اب تو لازم ہے کہ ہر سمت سے خوشبو آے نعت پڑھنے کی وہاں پر ہو سعادت حاصل شاعرِ نعت مدینہ میں کبھی تُو آے چشمِ نابینا کو بینائی ملی ہے ایسے اپنی پلکوں سے مدینہ کی زمیں چھو آے آپ اور آپ کے محبوب کا کہنا مانوں مجھ میں تسلیم کی اے میرے خدا خو آے سوے منزل ہیں چلے صل علی پڑھ کر ہم راہ میں کوہِ محن یا کوئی ٹاپو آے اب مدینہ کی زیارت سے سکوں آے گا  چین دل کو نہ مرے اب کسی پہلو آے نسیم خان 

متحد ہوکے جو بات کہی جاتی ہے

📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 متحد ہو کے جو حق بات کہی جاتی ہے سلطنت حاکمِ دوراں کی چلی جاتی ہے  میں کہ بڑھتے ہوے سایے کی طرف دیکھتا ہوں  عمر جبکہ مری سورج سی ڈھلی جاتی ہے کارِ آسان نہیں امن کے ساماں کرنا قطرہء خون سے تاریخ لکھی جاتی ہے زندگی دیکھنا کل رشک کرے گی مجھ پر  زندگی آج بہت مجھ پہ ہنسی جاتی ہے رب کعبہ کی عطا سے ہے شکایت سب کو  ساری دنیا مری شہرت سے جلی جاتی ہے تو خدا کے لیے گر ہو سکے آہستہ چل  گردشِ وقت!!! مری سانس تھمی جاتی ہے  ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہو سکتا  در سے اٹھتا ہوں تو دیوار گری جاتی ہے بیر رکھتے ہیں سخن سے جو مرے حد درجہ بزم میں اُن کی غزل میری پڑھی جاتی ہے نسیم خان 

غسل میں کتنے فرض ہیں

سوال: غسل میں کتنے فرض ہیں ؟ جواب غسل میں کل تین فرض ہیں  1, منہ بھر کر کلی کرنا  2, ناک کے نرم ہڈی تک پانی پہچانا  3, پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کے بدن کا کوئی حصہ بال برابر خشک)سوکھی ( نہ رہے  x

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت

Ghazal غزل