غزل

    📝۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔📝 دشمن کا بڑا ربط ہے رہبر سے ہمارے امید نہیں جیت کی لشکر سے ہمارے قدموں سے زر و لعل و گہر جلد اٹھا لو دستار نہ اترے گی میاں سر سے ہمارے سائل!!! نہیں زنجیر ہمارے کوئی در پر لے جا جو ضرورت ہو کھلے در سے ہمارے  ظالم سے ملاقات ہے طے گرچہ ہماری پہلو نہ بدل لے وہ کہیں ڈر سے ہمارے دراصل ہمیں گوش بر آواز نہیں ہیں آتی ہے صدا زور کی اندر سے ہمارے  صورت کوئی پھر اس کے تحفظ کی نہیں ہے قطرہ جو نکل جاے سمندر سے ہمارے اس دل کی طبیعت میں ہے درویش مزاجی بے کار الجھتے ہو سکندر سے ہمارے گزرا ہے وہ منزل کی طرف کر کے اشارہ گزرا جو جنازہ ہے برابر سے ہمارے ہم نیند سے اٹھ کر انہیں پلکوں پہ رکھیں گے  بیدار ہوے خواب جو بستر سے ہمارے غصہ نے ہمارے ہمیں برباد کیا ہے ہم قتل ہوے آپ ہی خنجر سے ہمارے منزل کی طلب میں ہیں چلے کتنی مسافت اندازہ لگا میل کے پتھر سے ہمارے نسیم خان

نعت رسولﷺ

 حضور شیخ السلام و المسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے یہ نعت پاک لکھی اور اسی کی برکت سے فورا آپکا بخار ٹھیک ہوگیا۔اس نعت شریف میں عربی فارسی اور اردو کے الفاظ کا حسین امتزاج ہے۔

مندرجہ ذیل میں ترجمہ کے ساتھ نعت شریف پیش ہے:


آں جملہ رسل ہادی برحق کہ گزشتند 

برفضلِ تو اے ختم رسل دادہ گواہی


(آج تک جتنے سچے رسول گزرے ہیں، اے خاتم المرسلین ! سب نے آپ کی بزرگی کی گواہی دی ہے) 


در خَلق و در خُلق توئی نیّر اعظم 

لاتُدرک اوصافک لم تُدر کَمَاہی


(صورت اور سیرت میں آپ آفتاب عالمتاب ہیں ۔ نہ آپ کے اوصاف کا احاطہ کیا جاسکتاہے اور نہ ہی ان کی حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے) 


یا احسن یا اجمل یا اکمل اکرم 

واللہ باخلاقک فی الملا یُباہی


(اے سب سے زیادہ حسین ! سب سے زیادہ جمیل ، سب سے زیادہ کامل ، سب سے زیادہ سخی ! ملائکہ کی محفل میں اللہ تعالی آپ کے اخلاق پر فخر کرتا ہے) 


تو باعث تکوین معاشی و معادی 

اے عبد الہ ہست مسلم بتو شاہی


(یارسول اللہ! دنیا اور آخرت کی تکوین کا باعث آپ ہیں ۔ اے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے کونین کی شاہی تجھے بخشی گئی ہے) 


زآفاق پریدی و ز افلاک گزشتی 

درجاتک فی السدرۃ غیر المتناہی


(آپ نے آفاق سے پرواز کی اور آسمانوں سے بھی گذر گئے۔ آپ کے درجات مقامِ سدرہ سے بھی آگے نکل گئے) 


عالم بہوا داریت از ہوش برفتہ

آہو شدہ در یم و بصحرا شدہ ماہی


(دیدار کی بے تابی میں بے ہوش ہے عالم

دریا میں ہرن آۓ ہیں صحرا میں ہے مچھلیاں)


امید بکرمت کہ مکارم شیم تست 

من کیستم و چیست معاصی و تباہی


(میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کرم کا امیدوار ہوں اور کرم فرمانا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پسندیدہ عادات میں سے ہے ۔ اس نوازش کے سامنے میری کیا حقیقت ہے،میرے گناہوں کی کیا حیثیت ہے ) 


آئس نیم از فضل تو اے روح خداوند 

نظرے کہ ربایدز قمر رنج و سیاہی


(اے رحمت الہی ! میں تیرے فضل وکرم سے مایوس نہیں ۔ ایک ایسی نظر فرمائیے جو قمر سے رنج و سیاہی کو دور کردے)


کلام: شیخ الاسلام و المسلمین الحاج الحافظ حضرت خواجہ محمد قمرالدین سیالوی رحمتہ اللہ علیہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سجدہ سہو کا مکمل طریقہ

Naat Shareef نعت شریف

Naat نعت