حضرت علامہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ
google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE google-site-verification=oSIRkc5u5uCnTMIVLnZ2KBnKTFofxZnKD-IcaJvEmJE
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظر کا تنگ کبھی دائرہ نہیں رکھا
حصارِ ذات میں خود کو چھپا نہیں رکھا
زمیں کی پیاس بجھانے میں ہم رہے آگے
لہو کو ہم نے نسوں میں بچا نہیں رکھا
منافقوں کی صفوں میں وہ شخص شامل ہے
وہ جس نے خود سے کسی کو خفا نہیں رکھا
چراغ کی بھی یہی ضد ہے جلتے رہنا ہے
ہواؤں نے بھی ابھی فیصلہ نہیں رکھا
ہمارے پاؤں کے چھالے گواہ ہیں اس پر
رہِ وفا میں دقیقہ اٹھا نہیں رکھا
غزل میں کرتے رہے ہم بیان جگ بیتی
چھپا کے ہم نے کوئی واقعہ نہیں رکھا
جو بن پڑا وہ کِیا ہم نے عزم کے دم پر
کسی سے وقتِ بلا آسرا نہیں رکھا
مرا ضمیر بھی لیکن ہوا نہ ٹس سے مس
امیرِ شہر نے بدلے میں کیا نہیں رکھا
رہِ جنوں کے تمہیں پیچ و خم بتاتے ہم
ہمارے سامنے کیوں مشورہ نہیں رکھا
نہیں گرائی کسی ناتوان پر بجلی
فلک سا ہم نے کبھی مشغلہ نہیں رکھا
وہ شخص راحت و چین و سکون کیا جانے
وہ جس نے دل میں کبھی بھی خدا نہیں رکھا
جہاں میں ایک بھی منصف نہیں ملا ایسا
کہ جس نے ظلم و ستم کو روا نہیں رکھا
نسیم خان بغاوت مزاج ہیں ہم لوگ
ستمگروں سے کبھی واسطہ نہیں رکھا
نسیم خان
ماشا ءاللہ
جواب دیںحذف کریںشکریہ محترم
جواب دیںحذف کریں